ماہرینِ جنگلی حیات نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھیوں کے بڑے کان صرف ان کی شناخت نہیں بلکہ ان کی بقا کے لیے ایک انتہائی اہم قدرتی نظام ہیں۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہاتھی اپنے کانوں کو جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھنے اور ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ افریقی ہاتھیوں کے کان کسی بھی زمینی جانور کے مقابلے میں سب سے بڑے ہوتے ہیں، جو ان کے جسمانی رقبے کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھی چونکہ دنیا کے سب سے بڑے زمینی جانور ہیں اور گرم علاقوں میں رہتے ہیں، اس لیے ان کے جسم میں زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے خارج کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ہاتھیوں کے کانوں میں ہزاروں باریک خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں۔ جب خون ان کانوں تک پہنچتا ہے تو بیرونی ہوا کے ذریعے ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور دوبارہ جسم میں گردش کرکے درجہ حرارت کو معمول پر لاتا ہے۔ کان ہلانے کا عمل اس ٹھنڈک کو مزید مؤثر بناتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ہاتھی اپنے کانوں کے ذریعے جذبات اور خطرات کے اشارے دیتے ہیں۔ خطرے کی صورت میں وہ کان پھیلا کر خود کو بڑا ظاہر کرتے ہیں جبکہ خوشی یا جوش کے موقع پر تیزی سے کان ہلاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’ہاتھی اسپتال‘، مظلوم جانوروں کے لیے امید کی کرن

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی ہاتھیوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی مسکن کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سائنس کان ہاتھی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کان ہاتھی ہاتھیوں کے کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ