ہاتھیوں کے کان بڑے کیوں ہوتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ماہرینِ جنگلی حیات نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھیوں کے بڑے کان صرف ان کی شناخت نہیں بلکہ ان کی بقا کے لیے ایک انتہائی اہم قدرتی نظام ہیں۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہاتھی اپنے کانوں کو جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھنے اور ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ افریقی ہاتھیوں کے کان کسی بھی زمینی جانور کے مقابلے میں سب سے بڑے ہوتے ہیں، جو ان کے جسمانی رقبے کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھی چونکہ دنیا کے سب سے بڑے زمینی جانور ہیں اور گرم علاقوں میں رہتے ہیں، اس لیے ان کے جسم میں زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے خارج کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ہاتھیوں کے کانوں میں ہزاروں باریک خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں۔ جب خون ان کانوں تک پہنچتا ہے تو بیرونی ہوا کے ذریعے ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور دوبارہ جسم میں گردش کرکے درجہ حرارت کو معمول پر لاتا ہے۔ کان ہلانے کا عمل اس ٹھنڈک کو مزید مؤثر بناتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ہاتھی اپنے کانوں کے ذریعے جذبات اور خطرات کے اشارے دیتے ہیں۔ خطرے کی صورت میں وہ کان پھیلا کر خود کو بڑا ظاہر کرتے ہیں جبکہ خوشی یا جوش کے موقع پر تیزی سے کان ہلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’ہاتھی اسپتال‘، مظلوم جانوروں کے لیے امید کی کرن
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی ہاتھیوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی مسکن کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سائنس کان ہاتھی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کان ہاتھی ہاتھیوں کے کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔