مفتی شمائل ندوی کے انسٹاگرام پر 30 لاکھ فالوورز مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بھارت کے معروف مذہبی اسکالر اور مبلغ مفتی شمائل ندوی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 30 لاکھ فالوورز کی تعداد عبور کر گئی ہے، جس کے بعد ان کی آن لائن موجودگی اور فکری مباحث کو نئی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
گزشتہ ماہ مفتی شمائل کا بھارتی شاعر اور گیت نگار جاوید اختر کے ساتھ ایک مباحثہ بھی ہوا تھا، جس کا موضوع “کیا خدا کا وجود ہے؟” تھا۔ تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس مباحثے میں جاوید اختر نے خدا کے وجود کی نفی کی، جبکہ مفتی شمائل نے مدلل اور منطقی دلائل کے ساتھ اس کے حق میں بات کی۔ مباحثہ سخت مگر مہذب انداز میں جاری رہا، اور مفتی شمائل کی گفتگو نے کئی لوگوں کو متاثر کیا۔
ناقدین اور حامی دونوں کا کہنا ہے کہ مفتی شمائل ندوی کی گفتگو میں استدلال، شائستگی اور مکالمے کی روایت نمایاں ہے، جس کی وجہ سے وہ نوجوانوں سمیت وسیع طبقے تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ان کے انسٹاگرام پر 30 لاکھ فالوورز مکمل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں مبارکباد اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مفتی شمائل
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔