ہم ’جئے شری رام‘ اور ’جئے بھارت ماتا‘ نہیں کہیں گے، التجا مفتی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے کہا ہے کہ کشمیر میں آزادیٔ اظہار تقریباً ختم ہو چکی ہے اور وہ یہاں ہندوتوا کو کام کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ’جئے شری رام‘ اور ’جئے بھارت ماتا‘ کہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ
آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت جموں و کشمیر کی صورتحال کیا ہے؟ 3 دن پہلے یہاں VPN تک بند کر دیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بات کرنے کی کوئی آزادی باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل منتخب ہونے والی حکومت سے عوام کو بڑی توقعات تھیں، مگر کام کرنا تو دور کی بات، وہ اپنی آواز بلند کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ شدید مایوسی اور غصے کا شکار ہیں۔
التجا مفتی نے کہا کہ اگر کشمیر میں لوگ فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔
’لندن، یورپ، امریکا، ہارورڈ اور آئیوی لیگ یونیورسٹیز میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں کس طرح لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ایک پوری نسل کو مٹایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ کشمیر میں لوگوں کو ہر معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ قانون کے نام پر ہو رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں قانون کی کوئی عملداری باقی نہیں رہی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنے اتحادی خواتین کے حجاب اور ماسک اتار رہے ہیں، جو کہ تشویشناک ہے۔
التجا مفتی نے مزید کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کشمیری طلبہ اور کشمیری شال فروشوں کو ہماچل پردیش اور ہریانہ میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیر میں ہندوتوا کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
التجا مفتی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی مقبوضہ جموں کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: التجا مفتی التجا مفتی نے نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں رہا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز