انہوں نے اپنی نقل و حرکت اور سیاسی اور مذہبی اظہار رائے پر پابندیوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جامع مسجد کے منبر سے جمعہ کا خطبہ دینے کے بجائے قید کی وجہ سے آن لائن بات چیت پر مجبور ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورا خطہ مسلسل ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور یہ صورتحال کسی بھی وقت ایک بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر سے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا کہ پہلگام واقع کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ ہوئی اور یہ ثابت ہوا کہ اس خطے میں امن کتنا کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2019ء میں یکطرفہ فیصلے کیے لیکن مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تنازعہ اس پورے خطے کو مسلسل ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر یقینی صورتحال کسی بھی وقت ایک بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد پوری مقبوضہ وادی میں لوگوں کو نشانہ بنانے اور گھروں کو مسمار کرنے کا عمل تیز کیا گیا، بھارتی شہروں میں بھی کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

میر واعظ نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں جبر کے بل پر قائم کی گئی خاموشی کو لوگوں کی رضا مندی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ زخم آج بھی ہرے ہیں اور مسائل جوں کا توں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بننے والی ایک منتخب حکومت بھی محدود اختیارات کا رونا رو رہی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ آئینی ضمانتوں سے دستبرداری اور آبادیاتی تبدیلوں جیسے اقدامات نے کشمیریوں کے اندر مایوسی اور وسوسوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تنظیم عوامی مجلس عمل پر پابندی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اختلاف رائے کو تیزی سے مجرمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔میر واعظ نے مزید کہا کہ انہوں نے مسلسل لوگوں کی امنگوں کی نمائندگی کرنے، امن اور بات چیت کی وکالت کرنے، نظربند کشمیری رہنماﺅں اور نوجوانوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے اور کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی کی بھرپور وکالت کی مسلسل کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، تاہم بات چیت کے لیے اخلاص ضروری ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ کشمیری مشکلات اور مصائب کا ضرور شکار ہیں لیکن ابتر حالات کے باوجود ان کے اندر مسائل کے پرامن حل کی امید زندہ ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز جاری ہونے والی اپنے ویڈیو پیغام میں مزید کہا کہ ”آج میں سال 2026ء کے پہلے جمعہ کو جامع مسجد سرینگر میں موجود نہیں ہوں جیسا کہ مجھے ہونا چاہیے تھا، جبکہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوں کیونکہ انتظامیہ نے آج پھر مجھے گھر میں نظربند کر دیا۔ انہوں نے اپنی نقل و حرکت اور سیاسی اور مذہبی اظہار رائے پر پابندیوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جامع مسجد کے منبر سے جمعہ کا خطبہ دینے کے بجائے قید کی وجہ سے آن لائن بات چیت پر مجبور ہوں۔ میر واعظ نے کہا کہ انہیں گزشتہ برس بھی 14 جمعہ گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میر واعظ عمر فاروق میر واعظ نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال انہوں نے کہا کہ بات چیت

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا