بانی کے باہر آنے پر ہی سیاسی کشیدگی ختم ہوگی، مذاکرات کا نکتہ بانی کی رہائی ہی ہے، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن الائنس نے مذکرات کی پیش کش قبول کرلی، اگر بات چیت میں عمران خان کی رہائی شامل نہ ہوئی تو قبول نہیں کروں گا۔
رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہمارا اولین نکتہ ہے، احتجاج کی کال پی ٹی آئی کی طرف سے ہے، اپوزیشن الائنس نے مذاکرات کی پیشکش قبول کی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی ، سول سپریمیسی پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں لیکن سن لیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہی تمام چیزوں کی کنجی ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے زیادہ مذاکرات کا کوئی حامی نہیں ہے لیکن اگر مذاکرات میں بانی کی رہائی کا نکتہ شامل نہیں تو میں بھی مذاکرات کو قبول نہیں کروں گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات میں ہم نے کیا کرنا ہے کیا موسم کا حال پوچھنا ہے؟ مذاکرات میں ہم اصل چیز پر ہی بات کریں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں طرف ہی غیر سنجیدگی ہے اور اسی غیر سنجیدگی کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائیلاگ کی آفر کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قائدین کہتے کہ ٹھیک ہے ہم تیار ہیں، مذاکرات کی بات پر حکومت والوں کو بھاگنے ہی نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔
مزید پڑھیںملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ
سہیل آفریدی اور انکی قیادت بار بار پاکستان کی وحدت پر حملہ آور ہوتی ہے، خواجہ آصف
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
علی محمد خان نے کہا کہ میں تو شہباز شریف کو پکڑ لو اور کہوں آپ نے ڈائیلاگ کی بات کی تو اس پر عمل کریں، مذاکرات کی بات کر کے حکومت نے پھر آگے کیا کیا ؟ حکومت مذاکرات کی بات کر کے پھر خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔ کیا یہ صرف پانچ سال پورے کرنا چاہ رہے ہیں؟۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ اپوزیشن الائنس نے بال حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے ، بال تو شہباز شریف کی کورٹ میں پڑی ہے وہ کدھر ہیں؟ نیک نیتی ہو تو راستہ نکل ہی جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے یکسوئی کی ضرورت ہے جب تک بانی باہر نہیں آئیں گے سیاست میں کشیدگی کم نہیں ہو گی ، بانی پی ٹی آئی با ہر آتے ہیں تو پھر گفتگو پرفارمنس پر شروع ہو گی، اداروں پر تنقید ختم ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ بانی ایک شخص نہیں بلکہ ایک خیال اور نظریہ ہے جس کے ساتھ کروڑوں لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بات سنی جاتی ہے کہ تو مذاکرات کی ٹیبل پر آتے ہیں، مذاکرات میں کوئی گڑ بڑ ہو تو پھر احتجاج کی طرف جاتے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا کہ بڑے بات کریں، شکر ہے رانا صاحب نے 5 بڑوں کی بات کی ، اللہ کرے کہ 5 بڑے بڑے بن کر دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ دعا ہے یہ سال اسیران کی رہائی کا سال ہو ، ہم دائروں میں گھوم رہے ہیں ، پانچ بڑوں کی بات بظاہر مشکل لگتی ہے لیکن سب اپنی ذات سے نکل آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ علی محمد خان مذاکرات میں مذاکرات کی پی ٹی آئی کی رہائی بات کر کی بات تھا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ