data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ہی وہ اصل رکاوٹ ہیں جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھنے نہیں دے رہے۔

رانا ثنا نے کہا کہ یہ تصور کرنا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش سے پہلے نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو، غلط ہے،  پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت یہ کہتی ہے کہ وہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں مگر جب تک پی ٹی آئی کے بانی یعنی عمران خان خود اس مذاکراتی عمل کو قبول نہیں کرتے، تب تک کوئی بھی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت، خاص طور پر عمران خان، نے کبھی بھی مذاکرات کا اختیار کسی اور کو نہیں دیا،علیمہ خان نے کہا کہ جو مذاکرات کرے گا، وہ پی ٹی آئی میں سے نہیں ہوگا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت مذاکرات کے حق میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ دنوں میں پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہی ہیں، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ سے مذاکرات کے مخالف ہیں اور 2011 سے لے کر آج تک یہی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں،  مذاکرات کے لیے بالکل واضح موقف ہے لیکن دوسری طرف ابہام ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے خود پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور حتیٰ کہ یہ بھی کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما وزیراعظم کے پاس نہیں آتے تو وہ اسپیکر چیمبر میں ملاقات کرنے کے لیے آ جائیں گے، وزیراعظم نے کوئی شرط نہیں رکھی، بس یہ کہا کہ اگر ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو آ کر ملیں،  وزیراعظم نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

رانا ثنا نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ جلد متوقع ہے اور اپوزیشن نے اس فیصلے کی کاپی اسپیکر آفس میں جمع کروا دی ہے،  پی ٹی آئی والے وزیراعظم سے مذاکرات کے لیے آئیں اور پھر بیٹھ کر بات کریں، ہم نے کسی کو مائنس نہیں کیا، بلکہ ہمیں مائنس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما مذاکرات کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے مسلسل اس عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنا موقف واضح کیا ہے اور یہی پیغام دیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مذاکرات کے لیے رانا ثنا اللہ کہ پی ٹی آئی پی ٹی آئی کے نے کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف