میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہارجائوں گی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئے دور کا یہ بڑا کھوکھلا سا شور ہے کہ اب وہ دور لد گیا جب عورتیں کبھی چولہا پھٹنے، اور کبھی دوپٹا جلنے سے ماری جاتی تھیں تو کبھی جسمانی اور ذہنی تشدد سے سسک سسک کے مرمر کے جیتی تھیں اب وہ گھروں میں مقید نہیں ان کو اپنے حقوق کا شعور آگیا ہے وہ نکل کر کیا نہیں کررہی ہیں؟ خودمختار ہیں، ہر شعبے میں خود کو منوارہی ہیں، مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں، (مساوات کی چھاؤں میں بڑا نشہ ہے) لیکن ٹی وی چینلوں سے سوشل میڈیا تک عورتوں پر تشدد بڑھتے جانے کی خبریں اب نئے انداز سے آ رہی ہیں۔ غریب گھرانوں میں تو تشدد کے واقعات عام تھے ہی مگر مڈل کلاس مرد بھی بھی اچھا خاصا گھونٹتے تھے، مگر افسوس ناک اضافہ یہ ہے کہ اب ورکنگ وومن بھی نشانہ بنتی جا رہی ہیں کبھی پس دیوار تو کبھی سر راہ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ تو امپاورمنٹ کا حصہ ہیں۔ پھر کیوں زیر عتاب ہے یا شاید اپر کلاس ایلیٹ کلاس کی عورت کو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو خود مختار ہے کئی مرد اس کے پیچھے چلتے ہیں واقعی ایسی عورتیں تو راج کرتی ہوں امپاور منٹ کی چھاؤں میں سکھی ہوں گی راوی چین ہی چین لکھتا ہوگا مگر حقیقت کچھ اور ہے دراصل ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والا معاملہ ہے۔ اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیے زمینی حقائق تو کچھ اور ہیں۔
پاکستان کی دو امپاورڈ خواتین کی کہانی سب کے سامنے ہے جس میں ان کی بے چارگی کا کڑوا سچ بھرپور انداز سے چیختا ہے کہ اس کھوکھلے نعرے کی ساری قلعی یک بیک اترتی چلی جاتی ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ بھلائی جانے والی سچی کہانی ہے جو ایک سرد شام کی دردناک اور ہولناک داستان ہے۔ پاکستان کی وہ عورت جو دو بار سب سے بڑی پوسٹ پہ فائز رہی بہت مقبول ہوئی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر محل میں پیدا ہوئی۔ جی بالکل حامیوں سے مخالفین تک سب مانتے ہیں کہ بینظیر بھٹو بہت بہادر، بہت ذہین اور خاصی حد تک غیر سطحی تھیں۔ بہت عوامی ہونے کے باوجود کئی برسوں کی جلا وطنی ختم کر کے وطن لوٹی تھیں تب انہوں نے آمریت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، اکتوبر 2007 اسی وقت ان پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئیں مگر دو ماہ بعد جب راولپنڈی لیاقت باغ میں واپس آتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں ان کا سفید دوپٹا بھرے مجمع میں ان کے خون سے سرخ ہو گیا یہ آمرانہ سازش تھی یا ان کے شریک حیات کی بے وفائی کا کوئی عملی اظہار جس کے چرچے اس وقت خبروں کا حصہ بن رہے تھے۔ بے شک اس وقت کسی بڑی پوسٹ پہ نہیں تھیں مگر دوبار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی اپوزیشن لیڈر تھیں اور دنیا بھر میں مقبول تھیں یہ 27 دسمبر 2007 تھا۔ ہجوم میں محافظوں کے درمیان ایک کھلی جگہ ہونے والا حادثہ تھا تب ایک اور باصلاحیت اور امپاورڈ خاتون کا کہا ہوا اک شعر ان پہ صادق آگیا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
اور مسلسل کٹھ پتلی بنائے جانے کے باوجود کٹھ پتلی نہیں بن سکی تھی آخر تین سبجیکٹ میں ماسٹر تھیں جس میں ایک فلسفہ بھی شامل تھا کیا اِسے پڑھنے والی عورت کٹھ پتلی بن سکتی ہے ان کے پہلے دور میں دنیا نے اس اہم منصب پر فائز امپاورڈ خاتون کی شدید بے بسی دیکھی ہزار اختلاف سہی مگر ان کا اپنا بھائی سڑک پر پولیس مقابلے میں شدید زخمی ہو کر رگڑتا ہوا مارا گیا قطع نظر اس کے کہ وہ بڑا دہشت گرد تھا کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پولیس کو روک سکے نہ اس کی بہن کو خبر تھی بہرحال اطلاع ملنے پر بڑے منصب پر فائز وہ عورت بیساختہ روتے ہوئے دوڑی چلی آئی کیا کسی مرد وزیراعظم کے دور میں ایسا ہو سکتا تھا؟ تب سماج نے اس کھوکھلے نعرے کی قلعی کھلتے ہوئے دیکھی۔ دوسری امپاورڈ خاتون کی کہانی اس سے بھی تیرہ سال پہلے کی ہے اتفاق دیکھیے تاریخ اس سے ایک روز پہلے کی 26 دسمبر 1994 کی بہت جینئس اور معروف شاعرہ تھیں جو سول سروس کے اعلیٰ عہدے پہ فائز تھیں جی یہ شعرو ادب کا بڑا نام مرحومہ پروین شاکر تھیں ان کی المناک حادثاتی موت کی کہانی ہے، ہر سیاسی پارٹی سے دور بھاگتی تھیں، زندگی کے المیوں سے لڑتے ہوئے اپنی دنیا آپ بنانے والی خاتون کی کہانی ان کی نظم ورکنگ وومن بھی ایک آئینہ ہے جس میں امپاورمنٹ کا سچا عکس شکوہ سنج ہے۔ محض 24 سال کی عمر میں ان کی کتاب خوشبو پہ آدمجی ایوارڈ دیاگیا۔ ہارڈورڈ یونیورسٹی علم کا مقطع کہی جاتی ہے انہوں نے وہاں سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اس سے پہلے انگلش میں ڈبل ماسٹر کیا تھا اور اردو کی پائے کی شاعرہ تھیں اہم منصب پہ فائز ہونے کے باوجود منصب دلبری، ایک ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ان سے چھن چکا تھا جس کادکھ ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔
بس ایک نام کا تارہ سدا چمکتا رہے
گلہ نہیں جو مقدر میں ماہتاب نہ ہو
ہمارے قحط بھی اور بارشیں بھی پوری ہوئیں
ہمارے نام کا اب تو کوئی عذاب نہ ہو
گھر کے لٹنے کا غم تو ہوتا ہے
اپنے ملبے پہ کون سوتا ہے
جس طرح خواب ہوئے میرے ریزہ ریزہ
اس طرح ٹوٹ کے نہ بکھرے کوئی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
خاصی آزاد خیال لگنے کے باوجود ایک تہذیب سے جڑی تھیں ان کی ہم عصر فیمنسٹ خواتین ان پہ شدید تنقید کرتیں کہ انہوں نے مردوں کا دماغ خراب کیا ہے ان کے مداحوں بلکہ معتقدین میں اس وقت سے آج تک کے بہت مرد شامل ہیں اس لیے کہ ان کا تصور مرد بہت عظیم تھا شکوہ اپنی جگہ یہ بات بھی ان کی انفرادیت کا باعث تھی۔ حادثاتی موت سے پہلے حادثاتی زندگی نے ان کو نڈھال کردیا تھا محض 42 سال کی عمر میں المناک ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئیں مذکورہ دونوں خواتین سے آپ شدید اختلاف رکھتے ہوئے بھی یہ بات مانیں گے کہ یہ دیواروں کے اندر تشدد سے نہیں ختم ہوئیں بلکہ کھلی شاہراہ پہ جان کی بازی ہاری تھیں ان کی زندگیاں نہ چولہا پھٹنے سے ختم ہوئیں نہ کسی اور گھریلو تشدد سے ایسی اور بھی بہت پاور فل خودمختار مانی جانے والی عورتیں ہیں مگر ان کے اندر کوئی شدید محرومی، کوئی نارسائی، کوئی بڑا المیہ ان کو ملول اور بے بس رکھتا ہے۔
گھر کے اندر تحفظ عزت اور سکھ کی چھاؤں اور ایک محرم کے مان کو تڑپتی ہیں یہ کمزور کے سچ کی طاقتور جھوٹ کے مقابل بے نام سی ہار ہے محض مرد عورت کی بات نہیں طاقت سچ کا بڑا حق ہے سماجی، معاشی، سیاسی، اخلاقی سارے مسائل اسی سبب سے لاینحل ہیں بہرحال اس میں ان کا قصور ہویا نہیں الگ بحث ہے مگر
ناحق ہم مجبوروں پہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
کا معاملہ ہے اس لیے کہ محرم نگران کی پناہ اس کی وفا اور اعتبار بڑی پاور ہے وہ اس سے ذرا پیچھے چل کر بڑا راج حاصل کرتی ہے یہاں آکر قوامون علی النساء کے آسمانی حکم کو چومنے گلے لگانے اور پھر اس کی عملی تکمیل کو دل کرتا ہے اور اس کی شدید ضرورت ہے۔ جی ہاں یہ دومثالیں کہانیاں نہیں بڑی ہیڈلائن تھیں تشدد کی کھلی سچائی۔ تحفظ عزت اور سکون کے مثلث کی تلاش میں وہ کیا نہیں کرگئیں بڑا مقام بھی مل گیا مگر دونوں کی بے بس زندگی سے بے بس اموات پوچھ رہی ہیں کہ آخر! یہ وومن امپاورمنٹ کیا ہے؟ مگر!! ہر چند کہ کہیں ہے مگر نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے باوجود کی کہانی رہی ہیں
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :