بھارت؛ 22 یونیورسٹیز کی 1 لاکھ جعلی ڈگریاں برآمد، 11 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
بھارت؛ 22 یونیورسٹیز کی 1 لاکھ جعلی ڈگریاں برآمد، 11 ملزمان گرفتار
کیرالہ(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست میں جعلی ڈگریاں بنانے والے گروہ پکڑا گیا جس کے قبضے سے ایک لاکھ ڈگریاں برآمد ہوئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کی پولیس نے جعلی ڈگریاں کیس میں 11 ملزمان کو حراست میں بھی لیا ہے۔
75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ میں ڈگریاں فروخت
ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ یہ جعلی ڈگریاں میڈیسن، نرسنگ، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل شعبہ جات کی تھیں اور ان ڈگریوں پر ملازمتوں بھی حاصل کی جاتی تھیں۔
پولیس کے بقول ملزمان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہ جعلی ڈگریاں 75 ہزار سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک میں فروخت کرتے ہیں۔
بڑے نیٹ ورک کا انکشاف
پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگریاں تیار کرنے والا یہ نیٹ ورک نہ صرف کیرالہ بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی فعال تھا۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ جعلی ڈگریاں بنیادی طور پر غیر قانونی طور پر تیار کی جاتی تھیں اور ان میں ایک یا دو یونیورسٹیوں کی سرکاری مہر بھی لگا دی جاتی تھی تاکہ ان کی تصدیق کرنا مشکل ہو جائے۔
حکومت کا مؤقف
بھارت کے وزیر تعلیم نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے دھندوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی اور تمام تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل تصدیق کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اسکینڈلز سے نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ طلباء کی محنت بھی رائیگاں جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام یونیورسٹیوں میں بہتر نگرانی اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں تیز کرے گی تاکہ ایسے فراڈز کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جعلی ڈگریاں
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔