Express News:
2026-07-24@01:30:57 GMT

مائی کلاچی روڈ سے ملنے والی لاشوں کی شناخت ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

شہر قائد کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر پھاٹک کے قریب جمعے کی شب مین ہول سے ملنے والی 4 لاشوں کو ماں ، بیٹی اور 2 بیٹوں کی حیثیت شناخت کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مقتولہ انیلہ 30 دسمبر کو اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی تھی جس کے بعد 2 جنوری کی شب ماں اور 3 بچوں کی لاشیں مین ہول سے برآمد ہوئیں۔

لاشوں کو مقتولہ کے بھائی نے پولیس سے رابطہ کر کے شناخت کیا، ڈاکس پولیس نے خواتین سمیت 4 افراد کے قتل کی واردات کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔

لاشوں کو ماں ، بیٹی اور 2 بیٹوں کی حیثیت سے شناخت کرلیا گیا اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ خاتون کی شناخت 38 سالہ انیلہ جبکہ بیٹی کو 13 سالہ کشور زہرہ جبکہ بیٹوں کو 10 سالہ کونین علی ور 15 سالہ حسین علی ولد امیر مختار علی کے نام سے کی گئی۔

قائم مقام ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی ، ایس ایس پی ساؤتھ مہزوز علی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ انیلہ کھارادر میں رہائش پذیر تھی جو کہ 31 دسمبر کی شب گھر سے بیٹی اور 2 بیٹوں کے ہمراہ نکلی تھی جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی اور ان کی لاشیں جمعے کی شب مائی کلائی پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملی تھیں۔

 مقتولہ انیلہ کی شادی امیر مختار علی نامی شخص سے ہوئی تھی تاہم ان میں طلاق ہوگئی تھی۔ ایس ایچ او ڈاکس نند لعل نے بتایا کہ مقتولہ کی شناخت کے حوالے سے اس کے بھائی نے پولیس سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد چاروں مقتولین کی شناخت ممکن ہو سکی۔

انہوں نے بتایا کہ مقتولہ کھارادر فوڈ اسٹریٹ کے قریب رہائشی تھی تاہم پولیس مقتولہ کے رہائشی مقام پر نصب کلوز سرکٹ کیمروں کو تلاش کر کے فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ مقتولہ انیلہ 30 دسمبر کی شب کس وقت اور کس کے ساتھ گئی تھی۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ مقتولہ کے سابق شوہر سے بھی اس حوالے سے معلومات حاصل کی جائیں گی۔

 پولیس کو ایک منصور نامی شخص کا بھی علم ہوا ہے جس کا مقتولہ سے مبینہ رابطہ تھا تاہم اس کی تصدیق کی جارہی ہے۔ 

ڈاکس پولیس نے لاشیں ملنے کا مقدمہ نمبر 9 سال 2026 سرکار کی مدعیت میں سب انسپکٹر محمد اظہر کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 چونتیس کے تحت درج کیا تھا۔

مزید پڑھیں

کراچی؛ مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے برآمد 4 لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس آگئیں

مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے چار لاشیں برآمد

کراچی میں کچرا کنڈی سے 25 سالہ لڑکی کی تشدد زدہ لاش برآمد، بغدے کے وار سے قتل کرنے کا شبہ

مدعی مقدمہ نے بیان دیا ہے کہ بذریعہ فون اطلاع ملی تھی کہ مائی کلاچی روڈ جنگل کی جانب مین ہول کے اندر لاشیں پڑی ہوئی ہیں جس پر وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا تو ایس ایچ او ڈاکس و دیگر پولیس ملازمین بھی وہاں موجود تھے جبکہ ایمبولینسز اور کرائم سین یونٹ کی ٹیم بھی آگئی تھی۔

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ مین ہول سے 4 نامعلوم لاشیں تشدد زدہ باہر نکالی گئیں جس میں 2 خواتین اور 2 مردانہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا اور ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشوں کو تلاش ورثا کے لیے ایدھی سرد خانے سہراب گوٹھ منتقل کر دیا تھا۔

مدعی کے مطابق حالات و واقعات سے شبہ ہے کہ مقتولین کو کسی نامعلوم مقام پر قتل کر کے مذکورہ مقام پر لاکر خشک مین ہول پھینکا گیا جبکہ برآمد تشدد زدہ لاشوں پر فائرنگ نہیں ہوئی تاہم انھیں تیز دھار آلے کے ذریعے تشدد کر کے انھیں مارا گیا۔

ڈاکس پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انچارج انویسٹی گیشن تھانہ ڈاکس کے حوالے کر دیا ۔

مقتولہ انیلہ کے بھائی کی بات چیت 

مقتولہ انیلہ کے بھائی مصطفیٰ نے ڈاکس تھانے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انیلہ ہماری اکلوتی بہن تھی جبکہ ہم 3 بھائی ہیں، سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر دیکھ کر پتہ چلا۔

انہوں نے بتایا کہ دو ڈھائی سال قبل میری بہن انیلہ کو طلاق ہوگئی تھی جبکہ بچے بہن کا ہمراہ ہی رہتے تھے ، انھوں نے بتایا کہ ہمارے کچھ مکان کرایے پر ہیں جن کا کرایہ ہم بہن کو دیتے تھے جبکہ بچے اسکول اور مدرسے میں پڑھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 30 دسمبر کو بہن کے گھر گیا تو تالا لگا ہوا تھا اور جب رات کو دوبارہ چکر لگایا تو اس وقت بھی تالا لگا ہوا تھا جس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔

مصطفیٰ کے مطابق بہن سے ایک ہفتہ قبل آخری بار فون پر بات ہوئی تھی ، 30 دسمبر سے بہن کا موبائل نمبر بند تھا ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے قاتلوں کا سراغ لگایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مائی کلاچی روڈ نے بتایا کہ مین ہول سے کہ مقتولہ جس کے بعد کے بھائی کی شناخت لاشوں کو

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار