Express News:
2026-07-24@04:37:16 GMT

وینزویلا پر امریکی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے، یوں دنیا ایک نئے بحران میں مبتلا ہو گئی ہے۔ ابھی گزشتہ برس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی بازگشت سنی جا رہی تھی کہ نے وینزویلا پر حملہ کر دیا۔

ایران پر بھی نے فضائی طاقت استعمال کی تھی اور اب ایک بار پھر خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایران پر بھی دوبارہ حملہ کر سکتا ہے کیونکہ ایران میں عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو طاقتور ملکوں کی من مانی کا تسلسل جاری ہے۔ وینزویلا پر حملے سے صدر ٹرمپ کا جنگیں روکنے کا بیانیہ متاثر ہوا ہے۔

ادھر ابھی تک غزہ کا تنازع حل نہیں ہوسکا ہے حالانکہ صدر ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آ کر غزہ میں امن قائم کریں گے۔

انھوں نے غزہ کے لیے ایک منصوبہ بھی پیش کر رکھا ہے جس پر عمل درآمد کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور 7 اہم مسلم ملکوں نے اگلے روز غزہ کی پٹی میں تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا ہے کہ موسمِ سرما کی شدید لہر، بارشوں اور امداد کی رسائی پر سخت پابندیوں نے تقریباً 19لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، فلسطینیوں کو کیمپوں، خوراک و ادویات کی قلت کا سامناہے۔

پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکی، سعودی عرب اور امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں بین الاقوامی برادری سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمے داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری اقدام کرے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی ستھرائی کی ضروری اشیاء کے داخلے اور تقسیم پر پابندیاں فوری ختم کرے۔

اسرائیل اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز کو غزہ اور مغربی کنارے میں مستقل بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت دے۔ ان مسلم ممالک نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے لیے حمایت کا اعادہ کیا اور اس کے کامیاب نفاذ میں تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایندھن کی ترسیل پرپابندی غزہ کے عوام کوتباہی میں دھکیل رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر اریحا میں مزید 2 فلسطینیوں کے مکان مسمار کر دیئے اور تیسرے مکان کو مسمار کرنے کا نوٹس جاری کر دیا۔

غزہ میں خیمے میں آگ لگنے سے ماں اور بچہ جاں بحق ہو گئے۔ ترکی کے شہر استنبول میں نئے سال کے پہلے دن غزہ کے لیے ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

ریلی میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی، جن میں سے ایک کے منتظم ترک صدر رجب طیب اردگان کے چھوٹے بیٹے بلال اردوغان تھے لیکن اس کا اسرائیل کی حکومت پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔

اسرائیلی فورسز صرف غزہ میں ہی نہیں بلکہ اپنے اردگرد بھی جارحیت میں مصروف ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام کے علاقے قنیطرہ میں شامی شہریوں پر فائرنگ کر دی جس میں متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق2025  میں69 ہزار سے زائد افراد نے اسرائیل چھوڑ دیا ہے۔

عالمی حالات پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک من مانیاں کر رہے ہیں۔ نے وینزویلا پر حملہ کر کے پیغام دیا ہے کہ جو بھی ملک امریکی مفادات کے خلاف ہو گا، اس کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

یہی پالیسی روس نے بھی یوکرائن کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ اس پالیسی کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ طاقتور ملک اپنے مفادات کے لیے جو چاہتے ہیں، کر رہے ہیں بلکہ دنیا کے غریب اور پسماندہ ملکوں کے لیے اپنی آزادی کو برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اسرائیل نے شام کے علاقے پر بزور قوت قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے لبنان اور اردن کے لیے بھی مسائل پیدا کیے ہیں۔

اب اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کر کے ایک نئی شرارت کی ہے حالانکہ صومالی لینڈ نام کا کوئی ملک ہے ہی نہیں، وہ صومالیہ کا حصہ ہے۔ بھارت نے کشمیر پر طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ایسی صورت حال میں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کام صرف مذمت کرنا رہ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ممالک کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے اور پرامن انداز میں حل کیا جائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد واحد سپرپاور کے روپ میں سامنے آیا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کے عرصے کو دیکھا جائے تو اس دوران میں نے عراق پر حملہ کر کے وہاں رجیم چینج کی، افغانستان پر فوج کشی کر کے وہاں رجیم چینج کی، لیبیا میں فوجی کارروائی کر کے وہاں رجیم چینج کی، یوں ایک مختصر سے عرصے میں بہت سی مہم جوئیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

روس نے یوکرائن پر حملہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تاحال جنگ جاری ہے۔ اب ایک بار پھر تنازعات کم ہونے کی بجائے تنازعات بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

ایران میں مظاہرے شروع ہیں، ایرانی معیشت زوال پذیر ہے، یمن کی معیشت برباد ہو چکی ہے اور وہاں خانہ جنگی عروج پر ہے۔ سوڈان میں بھی خون ریزی ہو رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے لیے مسائل کا گڑھ بنے ہوئے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت جاری ہے۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ منظرنامہ دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں جھگڑے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

 امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خود کو امن پسندی کے ساتھ جوڑا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جب کہ پسماندہ ملکوں کی سیاسی اور معاشی ضروریات الگ ہوتی ہیں۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک وجہ معاشی ناہمواری بھی ہے۔ پسماندہ اور غریب ملک شدید ترین معاشی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ طاقتور ممالک اپنی معاشی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی سے لے کر عالمی ٹریڈ تک کے معاملات کو دیکھا جائے تو بڑی طاقتیں اپنے مفادات پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پسماندہ ملکوں کے رعایت دینے کے لیے رضامند نہیں ہیں۔

عالمی مالیاتی اور معاشی معاملات میں عدم مساوات کی وجہ سے پوری دنیا میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ غریب ملک ہی نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان بھی اختلافات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

تجارتی اور اقتصادی محاذ پر اور چین ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ تجارتی معاملات میں مغربی یورپ اور کے مفادات بھی ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں جب کہ مغربی یورپ کے چین کے ساتھ بھی تجارتی اختلافات موجود ہیں۔

اسی طرح اور بھارت کے درمیان بھی تجارتی معاملات پر اختلافات ڈھکے چھپے نہیں رہے ہیں۔ روس کے ساتھ اور مغربی یورپ کے اختلافات تجارتی محاذ پر بھی ہیں اور نظریاتی محاذ پر بھی ہیں۔ اس وجہ سے پوری دنیا کی تجارت اور معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

عالمی امن کے لیے بڑی طاقتوں کو زیادہ ذمے داری اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑی طاقتوں کا بے لچک رویہ اور سخت پالیسی جاری رہی تو حالات مزید خراب ہونے کے امکانات واضح نظر آ رہے ہیں۔

وینزویلا پر حملے کی وجہ سے پورے براعظم جنوبی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کولمبیا اور کیوبا زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ برازیل بھی کئی قسم کے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

ادھر کینیڈا کے لیے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ کے صدر کینیڈا کو کا حصہ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی قیادت حالات کی نزاکت کو جس زاویے سے دیکھ رہی ہے وہ شاید یکطرفہ سچائی پر مشتمل ہے۔

اس سچائی کا دوسرا پہلو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دوسرا پہلو بتاتا ہے کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان محاذآرائی ایک حد سے بڑھتی ہے تو جنگوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی وجہ بھی بڑی طاقتوں کی باہمی لڑائی ہی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے دیکھا جائے تو وینزویلا پر بڑی طاقتوں اسرائیل نے پر حملہ کر کے درمیان رہے ہیں کے ساتھ کیا اور رہی ہے دیا ہے پر بھی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران