ایران: پرتشدد مظاہرےچھٹے روز میں داخل، تعلیمی اور سرکاری ادارے بند
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے۔
مختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ۔
سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے پر امن مظاہرین پر تشددکیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔
امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔