امر یکی فوج کے وینزویلاپرفضائی حملے ‘ صدر اوراہلیہ کو ڈیلٹا فورس نے گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260104-01-12
کراکس ،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امر یکی فوج کے وینزویلاپرفضائی حملے ‘ صدر اوراہلیہ کو ڈیلٹا فورس نے گرفتار کر لیا۔تفصیلات کے مطابق وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں امریکا کی جانب سے حملے کیے گئے، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد کیے گئے، وینزویلا میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں میں دھوئیں کے بادل بھی اٹھتے دکھائی دیے۔امریکی میڈیا کے مطابق کراکس میں کم از کم 7 دھماکے سنائی دیے جبکہ نچلی پرواز کرنے والے طیاروں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بڑے فوجی اڈے کے قریب واقع جنوبی کاراکاس کا علاقہ بجلی سے محروم ہو گیا ہے۔امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے، جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جھڑپوں میں متعدد امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،جبکہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وینزویلا اور امریکا کے درمیان دن بہ دن کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔صدر نکولس مادورو نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ وینزویلا امریکا کے ساتھ منشیات اسمگلنگ کے خلاف تعاون پر بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے مبینہ امریکی حملے پر براہ راست تصدیق یا تردید سے گریز کیا تھا۔مادورو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا ان کی حکومت گرانا اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیںوینزویلا کی حکومت نے ملک میں امریکی حملوں کی تصدیق کردی،وینزویلا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے دارالحکومت کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں ہوئے۔ وینزویلا حکومت کے مطابق امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔جنوبی امریکی ملک وینزویلا کی حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں، ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر حملہ کامیابی سے انجام دیا ہے، جس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کی کارروائی، جو رات بھر جاری رہی، کو ’بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے (امریکی کارروائی کی) رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔ٹرمپ نے اپنی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’ناقابلِ یقین کام‘ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد اب نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے کہا اْن دونوں پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے،انھوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ہے، جن میں امریکی شہری بھی شامل ہیں، حتیٰ کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو بھی۔صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم یہ کارروائی (وینزویلا پر حملہ) چار دن پہلے کرنے والے تھے، لیکن موسم موزوں نہیں تھا۔انھوں نے کہا کہ (ایسی کارروائیوں کے لیے) موسم بالکل درست ہونا چاہیے، اچانک موسم صاف ہوا اور ہم نے کہا اب جاؤ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ جب مادورو کو گرفتار کیا گیا تو وہ ایک ایسے گھر میں تھے جو گھر سے زیادہ قلعہ لگ رہا تھا اورچاروں اطراف سے مضبوط اسٹیل سے گھرا ہوا تھا۔انھوں نے دوبارہ کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی ہلاک ہوا ہے۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’چند لوگ زخمی ہوئے لیکن وہ واپس آ گئے ہیں اور خیال ہے کہ وہ کافی بہتر حالت میں ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ وینزویلا پر حملے سے ایک ہفتے قبل انھوں نے (وینزویلا کے صدر) مادورو سے بات کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ تمہیں ہار ماننی ہو گی، تمہیں سرینڈر کرنا ہو گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا آئندہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں ’مضبوط شمولیت اختیار کرے گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ہمیں کچھ ایسا کرنا پڑا جو زیادہ نپی تلی کارروائی ہو مگر کہیں زیادہ طاقتور ہو۔دریں اثناء وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر امریکا میں سنگین فوجداری الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے۔ان الزامات میں نارکو ٹیرازم (منشیات دہشت گردی)، کوکین اسمگلنگ، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے اور امریکا کے خلاف سازش کرنا شامل ہیں۔الزامات کی یہ فہرست امریکی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے ایکس (X) پر جاری اپنے پیغام میں شیئر کی۔انھوں نے مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان الزامات پر امریکی عدالتوں کا جلد سامنا کرنا ہوگا۔امریکی اٹارنی جنرل کے بقول یہ الزامات نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں درج کیے گئے ہیں جہاں انھیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے مکمل غضب کا سامنا کریں گے۔دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک آڈیو میں کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو یا ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورس کی زندگی کے فوری ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔دریں اثنا کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا میں مبینہ حملوں اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے دعوؤں کے بعد انہوں نے وینزویلا کی سرحد پر فوجی دستے تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر پیٹرو نے کہا کہ امریکی اقدامات نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکا کی خودمختاری پر ’’براہِ راست حملہ‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام اور ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔کولمبین صدر نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو وینزویلا سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کی نقل مکانی کا خدشہ ہے، جس کے اثرات براہِ راست کولمبیا پر پڑ سکتے ہیں۔ قبل ازیںوینزویلا نے امریکا کی جانب سے ملک پر مبینہ حملوں اور صدر نکولس مادورو کی موجودگی کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں جرمانہ نوعیت کی جارحیت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے۔وزیر خارجہ کے مطابق ہم نے اپنے وطن کے خلاف امریکی حکومت کی مجرمانہ جارحیت کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس طلب کیا ہے تاکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر غور کیا جا سکے۔جبکہ وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے کراکس میں امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدلانہ عمل‘ قرار دیا اور واضح کہا ہے کہ حکومت کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گی اور نہ ہی واشنگٹن کے دباؤ میں آئے گی۔ وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی کارروائی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی توہین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز نے کاراکاس کے گنجان آباد علاقوں میں ہیلی کاپٹروں سے راکٹ فائر کیے۔وزیرِ دفاع نے کہا ہم مذاکرات نہیں کریں گے، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم کامیاب ہوں گے۔ادھر امریکا کی جانب سے وینزویلا پر بمباری اور صدر نکولس مادورو کی مبینہ گرفتاری کے بعد عالمی برادری نے فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مختلف ممالک نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے وینزویلا کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے۔چین نے وینز ویلا میں امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا نے خودمختار ملک وینزویلا کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی آزادی پر حملہ ہے۔چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ امریکی کارروائی خطے میں امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، امریکا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرے، امریکا وینزویلا کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرے۔فرانس نے وینزویلا میں امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری عالمی الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، صدرمادورو کو ہٹانا اور وینزویلا کی آزادی کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے، وینزویلا کا مستقبل صرف وینزویلا کے عوام خود طے کر سکتے ہیں۔کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے کہا کہ کسی بھی مسلح تصادم پر امن، بین الاقوامی قانون کا احترام اور انسانی زندگی و وقار کی حفاظت مقدم ہونی چاہیے۔کیوبا کے صدر میگل ڈیازکنیل نے سوشل میڈیا پر امریکی کارروائی کو فوجداری حملہ قرار دیتے ہوئے فوری بین الاقوامی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ایران کے وزارتِ خارجہ نے امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ وینزویلا کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔روسی وزارتِ خارجہ نے بھی وینزویلا پر امریکی مسلح جارحیت کو سختی سے مسترد کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہیں۔ا سپین نے تنازع کو کم کرنے، اعتدال برتنے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی اپیل کی ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہاں موجود اٹلی کے شہریوں کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے ساتھ وہ مسلسل رابطے میں ہیں۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا میں تقریباً 160,000 اٹلی کے شہری مقیم ہیں، جن میں زیادہ تر کے پاس دوہری شہریت بھی ہے۔نائب صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں حالات کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔نائب صدر کے مطابق یورپی یونین تمام فریقین سے ضبط، تحمل اور احتیاط برتنے کی اپیل کرتی ہے تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ امریکی کارروائی میں کسی بھی طرح شامل نہیں تھاجو وینزویلا میں کی گئی۔برطانوی نشریاتی اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ میں پہلے حقائق معلوم کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ میں کہہ رہا ہوں ہم اس میں بالکل بھی شامل نہیں تھے۔اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کوبین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔امریکی اٹارنی جنرل نے 7 اگست 2025ء کو وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
کراکس:وینزویلا کے دارالحکومت میں امریکی حملے کے بعد آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں،چھوٹی تصویر ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ صدر مادورو کی تصویر،دوسری جانب حملے میں تباہ شدہ فوجی گاڑی کے قریب سے ایک فوجی گزررہا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مادورو اور ان کی اہلیہ کو بین الاقوامی قانون الاقوامی قانون کی امریکا کی جانب سے امریکی کارروائی نے مزید کہا کہ وینزویلا میں میں کہا نے وینزویلا امریکی فوجی وینزویلا پر کی کارروائی کارروائی کی وینزویلا کی کہنا تھا کہ کی پاسداری امریکی فوج میں امریکی کہ امریکی پر امریکی کرتے ہوئے کہ امریکا مادورو کی گرفتار کر امریکی کا کہا ہے کہ نے کہا کہ کی حکومت انہوں نے میں کوئی انھوں نے بتایا کہ کے مطابق کہا کہ ا کے خلاف کی فوجی کے وزیر کے بعد کیا ہے دیا ہے میں کو
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک