جیکب آباد، بھانجی اور نوجوان کو قتل کرنےوالے بھائیوں کو پھانسی کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آ باد(آن لائن)جیکب آبادکی عدالت نے سیاہ کاری کے الزام میںبھانجی اور نوجوان کو قتل کرنے والے 2 بھائیوں کو پھانسی کی سزا سنادی۔ تفصیلات کے مطابق
جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید شرف الدین شاہ کی عدالت نے 2 بھائیوں لال گل اور لال بخش بلیدی کو دوہرے قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی،ملزمان نے 4 مئی 2024 کو تھانہ گڑھی خیرو کی حدود گڑھی خیرو میں سیاہ کاری کی تہمت پر اپنی بھانجی فاطمہ اور نوجوان مغیم بلیدی کو قتل کیا تھا،سرکار کی جانب سے ایچ سی ممتاز علی لغاری کی مدعیت میں تین سگے بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس نے دو ملزمان لال گل اور لال بخش کو گرفتار کیا جبکہ مقتولہ خاتون کے والد لال جان کو مفرور قرار دیا گیا،عدالت نے دونوں ملزمان کو اسی کیس میں بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے جرم میں سات سات سال قید کی سزا بھی سنائی،جبکہ دونوں مجرم بھائیوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔