حکومت اور پی ٹی آئی کا مذاکراتی عمل زیادہ چلتا نظر نہیں آرہا، رہنما پیپلزپارٹی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ تو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن اس میں رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، دونوں طرف ڈیڈ لاک ہے اس کی وجہ سے مجھے یہ عمل چلتا نظر نہیں آرہا۔
رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ تو مذاکرات چاہتے ہیں، پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کی اسپیس پیدا کرے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق ڈیڈ لاک کے ذریعے اپنا راستہ نکالنا چاہتے ہیں تاہم مذاکرات کا عمل چلتے ہوئے مجھے نظر نہیں آتا کیونکہ بانی کہتے ہیں کہ سیاستدانوں سے مذاکرات نہیں کرنے جبکہ ادارے ان سے مذاکرات کریں گے نہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بانی کوئی حادثہ چاہتے ہیں، کوئی عوامی دباو اٹھے اور حکومت مجبور ہو جائے، سہیل آفریدی کو اس لیے لائے کہ یہ تصادم زیادہ بہتر کریں گے، پی ٹی آئی والے سب سے ہی تصادم چاہتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اپوزیشن قومی کانفرنس: سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں کا اسٹیبلشمنٹ کیخلاف مزاحمت کرنے پر اتفاق
رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ حکومت کے لیے بڑا امتحان کھڑا کر سکیں گے ، وہ حکومت نہیں بلکہ سیاست کے لیے بحران کھڑا کر رہے ہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی دباو نہیں بڑھا سکی اس لیے حکومت پر کوئی دباؤ نہیں، عوامی دباو سے حکومت پر دباؤ بڑھانے میں پی ٹی آئی ناکام ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مذاکرات ناگزیر ہیں، یہ طے ہے کہ مذاکرات نہ ہوں تو جمہوریت ڈی ریل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، مذاکرات سے کب کسی نے انکار کیا ہے۔
۔رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سندھ آنا یا ملک کے کسی بھی حصے میں جانا سہیل آفریدی کا حق ہے، ہماری حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ لاہور دورے میں جو گفتگو ہوئی وہ مناسب نہیں تھی ہماری جماعت کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے پی کو دورے کی دعوت ہوگی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل قمر زمان کائرہ نے پیپلز پارٹی چاہتے ہیں نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ