ایئر انڈیا کا پائلٹ نشے میں جہاز اڑانے پہنچ گیا، کینیڈا میں پرواز روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بھارتی سول ایوی ایشن ایک بار پھر عالمی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جب ایئر انڈیا کا ایک پائلٹ کینیڈا میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد پرواز کو ٹیک آف سے قبل روک دیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور آذربائیجان کے جریدے نیوز اے زی کے مطابق ایئر انڈیا کی ایک پرواز کینیڈا کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک دی گئی جب پائلٹ میڈیکل ٹیسٹ میں ناکام ہو گیا۔ رپورٹس کے مطابق پائلٹ کو نشے کے زیرِ اثر پائے جانے پر فوری طور پر پرواز سے ہٹا دیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے ٹرانسپورٹ ریگولیٹر نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایئر انڈیا سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ 26 جنوری تک تحقیقات کی رپورٹ جمع کرائے۔
مزید پڑھیںکینیڈا؛ ایئر انڈیا کے پائلٹ کو نشے کی حالت میں پرواز سے اُتار دیا گیا
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے بھی اس واقعے کے بعد ایئر انڈیا کے چار پائلٹس کو وارننگ نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان پر تکنیکی مسائل کے باوجود بوئنگ 787 طیارے کو پرواز کے لیے موزوں قرار دینے کا الزام ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی ایوی ایشن پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس سے قبل 12 جون کو ایئر انڈیا کا ایک طیارہ احمد آباد کے قریب حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 274 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں انجن کی خرابی، ایئر ٹریفک کنٹرول کی لاپرواہی اور بروقت ہنگامی ردعمل کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
عالمی ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں فضائی تحفظ کے مسائل اب انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ یہ انتظامی اور ریگولیٹری ناکامی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بار بار پیش آنے والے حادثات، پائلٹس کے خلاف کارروائیاں اور بین الاقوامی اداروں کی وارننگز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارتی سول ایوی ایشن کے نگرانی کے نظام کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا ایوی ایشن
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔