ایشیز سیریز کا آخری ٹیسٹ، پہلے روز کھیل سے قبل سڈنی واقعے کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایشیز سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کھیل سے قبل سڈنی واقعے کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے دوران سڈنی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا اور سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں اسکرین پر لکھا گیا کہ اس مشکل گھڑی میں ہم ساتھ ہیں۔
اسٹیڈیم میں کرکٹ فینز نے ہیروز کا کھڑے ہو کر استقبال کیا، ہیروز کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ گارڈ آف آنر کے لیے آئی سی یو پیرا میڈک اسٹاف، ڈاکٹرز، لوکل پولیس اور سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ گارڈ آف آنر کی تقریب میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بھی موجود تھے۔
درجنوں جانے بچانے والے ہیرو احمد الحمد کے ساتھ 14 سالہ چایا ڈینڈن بھی تھیں۔ چایا ڈینڈن کو ٹانگ میں گولی لگی تھی وہ دو بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
احمد الحمد سے عثمان خواجہ سمیت آسٹریلوی کھلاڑیوں نے ملاقات کی اور ان کی ہمت کو سراہا، اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی طرف سے بھی ہیروز کا شکریہ ادا کیا گیا۔
قومی ترانوں کے بعد وزیر کھیل نیو ساؤتھ ویلز اور کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او نے ہیروز سے ملاقات کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ سڈنی کے ساحل پر 14 دسمبر کو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔