لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں سڑکیں، مکانات اور ہاسٹلز کی تعمیر و مرمت اور دیکھ بھال پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کی 18 اہم صوبائی سڑکوں کے علاوہ صوبے میں زرعی، صنعتی اور شہری اہمیت کی 24 راہداریوں کی تعمیر کے بڑے منصوبے پر عمل درآمد کی منظوری بھی دے دی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں پرانے واٹر انفرا اسٹرکچر کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم میں بہتری کا ہدف دے دیا۔

چین نے امریکا سے وینزویلا کے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا

وزیراعلیٰ نے سال 2026-27 کے صوبائی ترقیاتی پروگرام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کم از کم 30 فی صد منصوبے شامل کرنے کا بڑا فیصلہ بھی کر لیا۔

وزیراعلی مریم نواز شریف کے وژن کی روشنی میں سینئیر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے متعلق تیسرے جائزہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلی نے ہر شعبے میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری سے منصوبوں کے آغاز کی ہدایت کر دی۔

پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی پی اے) کی سڑکوں کی تعمیر، پانی کی فراہمی اور عوامی سہولیات کے بڑے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

قاضی احمد ٹول پلازہ پر مویشیوں سے بھرا ٹریلر اُلٹ گیا،3 سو سے زائد بکریاں ہلاک

 اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کی مدد سے جدید دنیا میں رائج سڑکوں کی تعمیر ومرمت اور دیکھ بھال کے لئے جدید نظام، ٹیکنالوجی، مشینری اور طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹول وصول کرنے کا جدید طریقہ کار رائج کیا جائے گا۔ 

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مسافروں کو سفر کے دوران بہترین سڑک اور سہولیات فراہم ہوں گی۔ جدید نظام سے سفر کے دورانیے میں کمی ہوگی، حفاظت یقینی بنانے کے علاوہ عوامی اخراجات میں بھی کمی لائی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 150 کلو میٹر طویل دیپالپور، پاکپتن، وہاڑی روڈ کو نجی شعبے کی شراکت داری سے دو دویہ کیا جائے گا۔ نجی شعبے کے تعاون سے 100 کلومیٹر چراغ آباد، جھنگ، شورکوٹ روڈ کو دو رویہ بنانے کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔

کراچی: بفرزون کے گھر میں ڈکیتی کرنے والے 3 ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

 اسی طرح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 140 کلومیٹر مظفرگڑھ، علی پور، ٹی ایم پناہ روڈ، 49 کلومیٹر کے ساہیوال، سمندری روڈ پر کیرج وے اور 40 کلومیٹر بہاولپور، جھنگڑا شرقی روڈ پر اضافی کیرج وے بھی نجی شعبے کی شراکت داری سے بنیں گے۔

سیالکوٹ، پسرور، گجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، ڈسکہ کی سڑکوں کے علاوہ سیالکوٹ، ڈسکہ، سیالکوٹ، وزیرآباد اور گجرات، سیالکوٹ روڈز کی اَپ گریڈیشن بھی کی جائے گی۔ احمدپور شرقیہ، اوچ شریف، ڈسکہ، پسرور اور بہاولپور، حاصل پور روڈز بھی آپریشن اینڈ مینٹیننس کے اصول پر بہتر بنائی جائیں گی۔ پسرور، نارووال کے علاوہ لودھراں، ملسی، اور ساہیوال، پاکپتن روڈز کی دیکھ بھال بھی نجی شعبے کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ماہر فلکیات کی رمضان المبارک، عید الفطر اورعید الاضحیٰ کی ممکنہ تاریخوں کی پیشگوئی

ملتان سے شجاع آباد، جلال پور پیر والا سے ساہیوال، عارف والا روڈز بھی فہرست میں آپریشن اینڈ مینٹیننس ماڈل میں شامل کر لیے گئے۔ بورے والا سے چیچہ وطنی، کھرڑیانوالہ، جڑانوالہ، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں روڈز کو بھی 'او اینڈ ایم' ماڈل میں شامل کر لیا گیا۔ حاصل پور سے بہاولنگر روڈ  بھی 'او اینڈ ایم' ماڈل کا حصہ بنا دیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ دیہات سے منڈیوں تک سڑکوں کی بہتری، تجارت اور لاجسٹکس کی سہولیات میں اضافہ ہوگا۔ چکوال اور قصور میں نکاسی اور فراہمی آب کے منصوبے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے بنانے کے منظوری دے دی گئی جبکہ چکوال اور قصور میں آبی منصوبوں کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔

'ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا محفوظ ہوا نہ مضبوط'، کاملا ہیرس کی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت

اجلاس میں نجی شعبے کے تعاون سے سرکاری یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں طلبہ کے لیے آن کیمپس رہائشی سہولیات کی فراہمی پر غور کیا گیا۔

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ تمام محکمے نجی شراکت داری سے ممکن اور قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی کریں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کا پنجاب کی سڑکوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کا سب سے بڑا منصوبہ شروع ہو چکا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شفاف ماڈل سے پنجاب اور عوام دونوں ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں کے اعلیٰ حکام اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ مریم نواز شریف شراکت داری سے نجی شعبے کی نجی شعبے کے اجلاس میں کے علاوہ کی تعمیر کرنے کا کیا گیا گیا کہ

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف