اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے سوست بارڈر کے ذریعے سیکڑوں اشیا کی ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر درآمد اور کلیئرنس کی مشروط اجازت دے دی، تاہم ہر کنسائنمنٹ کے لیے حکومت گلگت بلتستان کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے کسٹمز کمپیوٹرائزڈ کلیئرنس سسٹم میں آن لائن اجازت نامہ لازمی ہوگا اور ایک کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مجموعی چھوٹ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے اور مقررہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے درآمد ہونے والی اشیا پر تمام متعلقہ ٹیکسز لاگو ہوں گے۔

ایف بی آر نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے اشیا کی کلیئرنس کے لیے نئے قواعد جاری کے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے اشیا کی کلیئرنس کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں۔

واضح کیا گیا ہے کہ ان قواعد کا اطلاق صرف سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے درآمد ہونے والی مخصوص اشیا پر ہوگا اور ان کا نفاذ فوری طور پر عمل میں آئے گا۔

ایف بی آر کے مذکورہ قواعد کے تحت ایک خصوصی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق صرف وہی اشیا اس سہولت میں شامل ہوں گی جو سلک روٹ ڈرائی پورٹ سوست کے ذریعے درآمد کی جائیں گی، جن کی درجہ بندی نوٹیفکیشن میں دیے گئے مخصوص پی سی ٹی کوڈز کے تحت ہو۔

قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ ان درآمدات پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی بشرطیکہ ہر کنسائنمنٹ کے لیے حکومت گلگت بلتستان کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے کسٹمز کمپیوٹرائزڈ کلیئرنس سسٹم میں آن لائن اجازت نامہ جاری کیا جائے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ درآمد کرنے والی فرم یا کمپنی مکمل طور پر ایسے افراد کی ملکیت ہو جو گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈر ہوں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مالی سال میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مجموعی چھوٹ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے جس کا حساب کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا اور یہ سہولت پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مقررہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے درآمد ہونے والی اشیا پر تمام متعلقہ ٹیکسز لاگو ہوں گے۔

قواعد میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس سہولت کے تحت درآمد کی جانے والی تمام اشیا صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی استعمال ہوں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر احتجاج، دھرنوں یا سڑکوں کی بندش کے باعث کسٹمز آپریشن متاثر ہوتا ہے تو کلیکٹر آف کسٹمز گلگت بلتستان کو صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس ٹیکس چھوٹ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اسی طرح اگر کسی انفرادی کیس میں غلط بیانی سامنے آئے یا اشیا کو گلگت بلتستان کی حدود سے باہر لے جایا جائے تو کلیکٹر آف کسٹمز کو ٹیکس چھوٹ واپس لینے کا اختیار حاصل ہوگا اور چیف کلیکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا کہ ان اشیا کو علاقے سے باہر منتقل نہ کیا جا سکے، مسودہ قواعد کے تحت شامل پی سی ٹی کوڈز کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے کر ان میں ردوبدل بھی کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر سوست کے ذریعے باقی ملک کے لیے درآمد کی جانے والی اشیا اور گلگت بلتستان کے لیے مخصوص اشیا کے درمیان واضح فرق، نگرانی اور ٹریکنگ کے لیے ایک الگ خصوصی طریقہ کار بھی متعارف کرائے گا۔

واضح رہے کہ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ (کنٹرول) ایکٹ 1950، امپورٹ پالیسی آرڈر اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی تمام متعلقہ دفعات سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر لاگو ہوں گی خواہ وہ گلگت بلتستان کے استعمال کے لیے ہوں یا ملک کے دیگر حصوں کے لیے ہوں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل درآمد ہونے والی گلگت بلتستان کے گلگت بلتستان کی فیڈرل ایکسائز ڈرائی پورٹ انکم ٹیکس ایف بی آر درآمد کی کے ذریعے اشیا کی اشیا پر گا اور کے تحت کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات