صوبائی سہ فریقی ٹاسک فورس برائے FPRW کا پہلا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کے ہیڈ آفس میں صوبائی سہ فریقی ٹاسک فورس برائے بنیادی اصول اور حقوق کارگاہ FPRW کا پہلا (Maiden) اجلاس سیکرٹری محنت اسد اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، ڈائریکٹر لیبر و سیکرٹری ٹاسک فورس آر ایس سجنانی، ریجنل ڈائریکٹر سید اطہر علی شاہ، لا آفیسر لیبر ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں بشمول زراعت، بلدیات، سماجی بہبود اور محکمہ ترقی خواتین کے نمائندگان، ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان اور محنت کش تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو صوبے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ محنت کشوں کے حقوق اور معیارات کے مؤثر نفاذ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اجلاس کے دوران ٹاسک فورس کے اراکین نے بنیادی اصولوں اور حقوقِ کارگاہ Right at Work کے فروغ اور
نفاذ سے متعلق حکمتِ عملیوں پر غور کیا، خصوصاً زرعی شعبے اور بالخصوص کپاس کے مخصوص شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ٹاسک فورس نے متعلقہ مزید محکموں کو شامل کرنے اور FPRW کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع منصوبہ جات اور پالیسیاں ترتیب دینے کا فیصلہ کیا، تا کہ نچلی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
زرعی محنت کشوں کے نمائندگان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ہدفی پالیسیوں اور عملی منصوبوں کی تشکیل سے سندھ بھر میں زرعی محنت کشوں کے کام کے حالات بہتر ہوں گے اور ان کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین
(Fundamental Principles and Rights at Work) صوبائی سیکرٹری محنت نے تمام شرکاء کا اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج اجلاس میں تمام شراکت داروں نے باعزت روزگار، سماجی انصاف اور بنیادی محنت کش حقوق کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں وائس کمشنر سیسی سکندر بلوچ، سیسی کے مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز بھی شریک تھے۔ یاد رہے کہ حکومت سندھ نے 9 ستمبر 2025 کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے توثیق شدہ کنونشن کے حوالے سے ایک سہ فریقی ٹاسک فورس برائے FPRW اینڈ ڈیسنٹ ورک قائم کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محنت کشوں کے ٹاسک فورس
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،