بلوچستان کے بالائی علاقوں میں حالیہ برفباری نے زیارت، کان مہترزئی اور گردونواح کے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے۔ سرد موسم، برف سے ڈھکے دیودار کے جنگلات اور دھند میں لپٹے پہاڑ ایک بار پھر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔

کوئٹہ سے قریبی سیاحتی مقام زیارت کی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ تو ہوا ہے، مگر یہ رش ماضی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ وہ دن جب ہزاروں سیاح سردیوں میں بلوچستان کا رخ کرتے تھے، اب صرف وہ یادیں باقی رہ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: عیدالفطر پر بلوچستان کے کون سے سیاحتی مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے؟

سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ 2 سال قبل تک بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال نسبتاً بہتر تھی، جس کے باعث سردیوں اور بالخصوص برفباری کے موسم میں کراچی سے بڑی تعداد میں سیاح کوئٹہ اور زیارت آتے تھے۔

’سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے‘

ایسوسی ایشن آف کراچی ٹور آپریٹرز کے سیکریٹری اطلاعات سید عمار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہفتہ وار ایک ہزار سے پانچ ہزار سیاح کراچی سے روانہ ہوتے تھے، جبکہ مجموعی طور پر سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح صرف کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے۔

’تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر محض 500 سے ایک ہزار کے درمیان رہ گئی ہے، جس سے ٹریول ایجنٹس کا کاروبار قریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔‘

سیاحوں کی کمی کا براہِ راست اثر ہوٹل انڈسٹری پر بھی پڑا ہے۔ کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل مالک الیاس احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 2 سے 3 برس میں سیاحوں کی آمد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے برفباری کے موسم میں ہوٹل مکمل بھرے رہتے تھے اور ایک سیزن میں 10 سے 15 لاکھ روپے تک آمدن ہو جاتی تھی، مگر اب حالات ایسے نہیں رہے۔

حکومت سے صوبے میں سیکیورٹی بہتر کرنے کا مطالبہ

انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت صوبے میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائے تاکہ سیاح بلا خوف و خطر بلوچستان آئیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔

بلوچستان سیاحتی اعتبار سے بے پناہ پوٹینشل رکھتا ہے۔ زیارت کے دیودار کے جنگلات، کوئٹہ کی وادی، ہنہ جھیل اور زیارت ریزیڈنسی کے علاوہ صوبے کے دیگر اہم سیاحتی مقامات میں گوادر کا ساحل، پسنی اور اورماڑہ کے خوبصورت بیچز، کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، پرنسس آف ہوپ، خضدار اور قلات کے تاریخی مقامات، ہرنائی اور مسلم باغ کے قدرتی مناظرشامل ہیں۔

اگر ان مقامات کو بہتر سہولیات اور مؤثر تشہیر کے ذریعے سامنے لایا جائے تو بلوچستان ملکی اور غیر ملکی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے، ماہرین

ماہرین کے مطابق بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سیاحت کے فروغ سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، فوڈ انڈسٹری اور مقامی کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نجی سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ کی دعوت دے چکے ہیں، حکومتی ذرائع

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان پہلے ہی نجی سرمایہ کاروں کو سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری کی دعوت دے چکے ہیں تاکہ بڑے ہوٹل، ریزورٹس اور ریسٹورنٹس قائم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں کون کون سے سیاحتی مقامات موسم گرما میں گھومے جاسکتے ہیں؟

حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے۔

سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، نجی شعبہ اور مقامی آبادی مل کر کام کریں تو برفباری کے یہ حسین مناظر نہ صرف بلوچستان کی پہچان بن سکتے ہیں بلکہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews برف باری بلوچستان سرد موسم سہولیات سیاحتی انڈسٹری وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان سہولیات سیاحتی انڈسٹری وی نیوز سیاحتی مقامات بلوچستان کا بلوچستان کی کراچی سے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟