برفباری نے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی، مگر سیاح کم، بلوچستان کی سیاحت ایک بار پھر بدحالی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
بلوچستان کے بالائی علاقوں میں حالیہ برفباری نے زیارت، کان مہترزئی اور گردونواح کے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے۔ سرد موسم، برف سے ڈھکے دیودار کے جنگلات اور دھند میں لپٹے پہاڑ ایک بار پھر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔
کوئٹہ سے قریبی سیاحتی مقام زیارت کی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ تو ہوا ہے، مگر یہ رش ماضی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ وہ دن جب ہزاروں سیاح سردیوں میں بلوچستان کا رخ کرتے تھے، اب صرف وہ یادیں باقی رہ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: عیدالفطر پر بلوچستان کے کون سے سیاحتی مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے؟
سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ 2 سال قبل تک بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال نسبتاً بہتر تھی، جس کے باعث سردیوں اور بالخصوص برفباری کے موسم میں کراچی سے بڑی تعداد میں سیاح کوئٹہ اور زیارت آتے تھے۔
’سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے‘ایسوسی ایشن آف کراچی ٹور آپریٹرز کے سیکریٹری اطلاعات سید عمار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہفتہ وار ایک ہزار سے پانچ ہزار سیاح کراچی سے روانہ ہوتے تھے، جبکہ مجموعی طور پر سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح صرف کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے۔
’تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر محض 500 سے ایک ہزار کے درمیان رہ گئی ہے، جس سے ٹریول ایجنٹس کا کاروبار قریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔‘
سیاحوں کی کمی کا براہِ راست اثر ہوٹل انڈسٹری پر بھی پڑا ہے۔ کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل مالک الیاس احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 2 سے 3 برس میں سیاحوں کی آمد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پہلے برفباری کے موسم میں ہوٹل مکمل بھرے رہتے تھے اور ایک سیزن میں 10 سے 15 لاکھ روپے تک آمدن ہو جاتی تھی، مگر اب حالات ایسے نہیں رہے۔
حکومت سے صوبے میں سیکیورٹی بہتر کرنے کا مطالبہانہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت صوبے میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائے تاکہ سیاح بلا خوف و خطر بلوچستان آئیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔
بلوچستان سیاحتی اعتبار سے بے پناہ پوٹینشل رکھتا ہے۔ زیارت کے دیودار کے جنگلات، کوئٹہ کی وادی، ہنہ جھیل اور زیارت ریزیڈنسی کے علاوہ صوبے کے دیگر اہم سیاحتی مقامات میں گوادر کا ساحل، پسنی اور اورماڑہ کے خوبصورت بیچز، کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، پرنسس آف ہوپ، خضدار اور قلات کے تاریخی مقامات، ہرنائی اور مسلم باغ کے قدرتی مناظرشامل ہیں۔
اگر ان مقامات کو بہتر سہولیات اور مؤثر تشہیر کے ذریعے سامنے لایا جائے تو بلوچستان ملکی اور غیر ملکی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے، ماہرینماہرین کے مطابق بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سیاحت کے فروغ سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، فوڈ انڈسٹری اور مقامی کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نجی سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ کی دعوت دے چکے ہیں، حکومتی ذرائعحکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان پہلے ہی نجی سرمایہ کاروں کو سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری کی دعوت دے چکے ہیں تاکہ بڑے ہوٹل، ریزورٹس اور ریسٹورنٹس قائم کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں کون کون سے سیاحتی مقامات موسم گرما میں گھومے جاسکتے ہیں؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، نجی شعبہ اور مقامی آبادی مل کر کام کریں تو برفباری کے یہ حسین مناظر نہ صرف بلوچستان کی پہچان بن سکتے ہیں بلکہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews برف باری بلوچستان سرد موسم سہولیات سیاحتی انڈسٹری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان سہولیات سیاحتی انڈسٹری وی نیوز سیاحتی مقامات بلوچستان کا بلوچستان کی کراچی سے کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔