شمالی نائجیریا، مسلح حملے میں ایک گاؤں کے درجنوں دیہاتی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
صوبہ نائجر کے پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے مقامی بازار اور کئی گھروں کو بھی آگ لگا دی۔ علاقے کے رہائشیوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ابھی تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی ہیں، اور انہوں نے پولیس کی اس بات کو بھی رد کیا کہ اغوا شدہ افراد کو بچانے کے لیے فورسز روانہ کر دی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔افریقہ کے شورش زدہ ملک نائجیریا کے مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ مسلح افراد کے ایک گروہ نے اچانک ملک کے شمالی علاقے میں ایک گاؤں کاسووان داجی میں داخل ہو کر وہاں کے رہائشیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد مارے گئے اور کئی دوسرے اغوا کر لیے گئے۔ تاہم گاؤں کے دو باشندوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 بتائی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ابھی تک کچھ لوگ لاپتہ ہیں۔
صوبہ نائجر کے پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے مقامی بازار اور کئی گھروں کو بھی آگ لگا دی۔ علاقے کے رہائشیوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ابھی تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی ہیں، اور انہوں نے پولیس کی اس بات کو بھی رد کیا کہ اغوا شدہ افراد کو بچانے کے لیے فورسز روانہ کر دی گئی ہیں۔ شمالی اور وسطی نائجیریا میں، خاص طور پر صوبہ نائجر میں، دیہاتوں پر مسلح حملے ایک بار بار ہونے والا معاملہ بن چکے ہیں۔
مسلح گروہ اکثر دور دراز علاقوں اور ویران جنگلات کو اپنا ٹھکانہ اور حملوں کے لیے راستہ بناتے ہیں، اور فائرنگ، گھروں کو جلانے اور لوگوں کو اغوا کرنے کے ذریعے خوف و ہراس پھیلاتے ہیں اور ان علاقوں میں کسی حد تک اپنا کنٹرول قائم کر لیتے ہیں۔ ان تشدد آمیز واقعات کی ایک مثال گزشتہ نومبر میں، گاؤں پاپیری کے قریب ایک کیتھولک اسکول سے 300 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کا اغوا ہے۔ اگرچہ اب تک کسی گروہ نے کاسووان-داجی پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق حملہ آوروں کے مقاصد عموماً پیسے بٹورنا (بھتہ خوری)، خوف پھیلانا، اور کم سکیورٹی والے علاقوں پر قبضہ قائم کرنا ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو بھی
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔