افغانستان کے معدنی وسائل طالبان کمانڈرز کی جیبوں میں، ماہانہ کروڑوں ڈالر کمائی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
افغانستان پر قابض طالبان حکومت پر قدرتی وسائل کی منظم لوٹ مار کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے ملک کے مختلف شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں سونے کی کانوں پر زبردستی قبضے شروع کر دیے ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق بدخشاں، تخار اور فراہ سمیت کئی صوبوں میں جیسے ہی کسی علاقے میں سونے کی کان کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے، طالبان عناصر مقامی مالکان کو بے دخل کر کے خود وہاں قابض ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی شہریوں کو سونا نکالنے کے پرمٹ جاری نہیں کیے جا رہے، جبکہ طالبان کے حمایت یافتہ افراد کو مخصوص حصہ طے کر کے کانوں پر کام کی اجازت دی جاتی ہے۔
صوبہ تخار میں سونے کی کانوں پر قبضے کے خلاف مقامی افراد نے احتجاج کیا، جس کے دوران طالبان کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مزید پڑھیںاقوام متحدہ کے بعد افغان میڈیا کا انکشاف، طالبان کے مبینہ جرائم بے نقاب
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان گٹھ جوڑ کے باعث قدرتی وسائل سے بھاری آمدن حاصل کی جا رہی ہے۔
اندازوں کے مطابق سونے کی کانوں سے طالبان کو ماہانہ 25 ملین ڈالر سے زائد آمدن ہو رہی ہے، جو سرکاری بجٹ میں شامل ہونے کے بجائے طالبان کمانڈرز کی ذاتی جیبوں میں جا رہی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کی اس لوٹ مار نے افغانستان کو مزید معاشی بحران اور غربت کی طرف دھکیل دیا ہے۔
افغان مبصرین کے مطابق سونے اور دیگر معدنی ذخائر پر قبضے کی کشمکش طاقتور اور شدت پسند گروہوں کے درمیان ایک نیا تنازع بنتی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق سونے کی رہی ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔