اسلام آباد (طارق محمود سمیر)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے متعدد اراکین نے خود ان سے رابطہ کر کے اس نام پر عدم قبولیت کا اظہار کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اگر باضابطہ طور پر مذاکرات کے لیے ان کے پاس آتی ہے تو وہ حکومت سے بات کرنے اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان مذاکرات کو فیسلیٹیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم تاحال اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے میں انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اور وزیراعظم نے بھی انہیں اس حوالے سے مکمل اختیار دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑوں سے مشاورت اور نصیحت لینا ضروری ہوتا ہے، لیکن فیصلے آئینی دائرہ کار میں کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست نہ کی جائے۔ اسپیکر نے بتایا کہ عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے وہ چار خط لکھ چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم کسی بھی معاملے میں انہیں نہیں روکتے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے حوالے سے باضابطہ پراسیس شروع کر دیا جائے گا، اور اس عمل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق ضروری ہوگی۔

محمود خان اچکزئی کے حوالے سے سوال پر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اگر وہ انہیں اسپیکر نہیں مانتے تو عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی انہیں قبول نہیں کرتا تو ان کا دل بڑا ہے اور وہ اس پر کوئی گلہ نہیں رکھتے۔

اسپیکر کے مطابق اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی میں تاخیر ہو رہی ہے، تاہم وہ اس عمل کو آئینی اور شفاف طریقے سے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میں مذاکرات اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتا ہوں اگر رکن پارلیمنٹ کے علاؤہ کوئی مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے تو وہ حکومت سے خود رابطہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سردار ایاز صادق اپوزیشن لیڈر کی کہ اپوزیشن حوالے سے انہوں نے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان