جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، ڈریپ کے ریپڈ الرٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، ڈریپ کے ریپڈ الرٹس جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد/کراچی: (سب نیوز) جعلی ادویات کے دھندے کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کراچی اور پنجاب سے امراضِ معدہ اور درد کش جعلی ادویات کی نشاندہی کے بعد تین جعلی بیچز کے ریپڈ الرٹس جاری کرتے ہوئے ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈریپ کے مطابق سنٹرل ڈرگ لیبارٹری کراچی اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (ڈی ٹی ایل) پنجاب نے مختلف ادویات کو جانچ کے بعد جعلی قرار دیا ہے۔ سنٹرل ڈرگ لیب کراچی نے تسکینِ درد کے لیے استعمال ہونے والی پین نل گولی کو جعلی قرار دیا۔ لیو ہیلتھ کیئر لیب کراچی کی تیار کردہ تسکین درد گولی (بیچ نمبر 091) جعلی پائی گئی، جبکہ لیو ہیلتھ کیئر لیب نے درکش گولی غیر قانونی طور پر تیار کی۔
اسی طرح حکیم پرانا دواخانہ کراچی کی جانب سے غیر قانونی طور پر تیار کردہ پین نل گولی (بیچ نمبر 01) بھی جعلی قرار دی گئی ہے۔ ڈریپ کے مطابق لیو ہیلتھ کیئر لیب اور پرانا دواخانہ کراچی کے پاس دواسازی کا کوئی لائسنس موجود نہیں اور انہوں نے ادویات غیر قانونی طور پر تیار اور سپلائی کیں۔
ڈریپ نے امراضِ معدہ کے معروف برانڈ ڈوپھالیک سیرپ کے بیچ نمبر 251986 کو بھی جعلی قرار دیا ہے۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پنجاب کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بیچ جعلی ہے، جس کے لیبل پر ملٹی نیشنل ایبٹ فارما کینیڈا کا پتہ درج ہے۔ تاہم ہائی نون فارما نے متاثرہ بیچ سے اظہارِ لا تعلقی کیا ہے۔
ڈریپ کے ریپڈ الرٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ جعلی ڈوپھالیک سیرپ سمیت جعلی ادویات کا استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے۔ جعلی ادویات کا معیار غیر واضح ہوتا ہے، ان کا استعمال غیر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور علاج بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈریپ نے اپنی ریگولیٹری فورس کو ملک گیر سطح پر مارکیٹ سرویلنس بڑھانے، جعلی ادویات کے سپلائرز کی نشاندہی کرنے اور مارکیٹس سے جعلی بیچز فوری ضبط کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اتھارٹی نے ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز پر زور دیا ہے کہ وہ جعلی ادویات کی موجودگی کے بارے میں فوری اطلاع دیں تاکہ عوامی صحت کو لاحق خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا فیض حمید کے بھائی نجف حمید پٹواری کے خلاف مقدمہ درج ، ایف آئی آر سب نیوز پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا فیض حمید کے بھائی نجف حمید پٹواری کے خلاف مقدمہ درج ، ایف آئی آر سب نیوز... سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ برقرار، ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور وینزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی دھمکیاں سابق جسٹس سید منصور علی شاہ کے صاحبزادہ کی دعوت ولیمہ، اعلی شخصیات کی شرکت راولپنڈی سے اسلام آباد سفر کرنے والوں کیلئے ٹریفک ایڈوائزری جاری وینزویلا پر امریکی حملے کے خلاف امریکا سمیت دنیا بھر میں مظاہرے،صدر ٹرمپ کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جعلی ادویات کے کے خلاف ڈریپ کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔