سپریم کورٹ نے جعلی دستاویزات کے ذریعے امریکی ویزا حاصل کرنے کی مبینہ کوشش کرنے والی ملزمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے مستعفی ججز کو پینشن کی مد میں بھاری رقم ملنے پر خواجہ آصف بول پڑے

ملزمہ کے وکیل کے مطابق، 20 افراد نے امریکا کا ویزا اپلائی کیا تھا، جن میں سے 6 افراد کی دستاویزات جعلی نکلنے پر کارروائی کی گئی۔ ملزمہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازمہ اور بطور ٹرینر سرگرم تھیں۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خاتون کا نام آرہا ہے تو ہم نوٹس لے رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا بہت احترام ہے، لیکن خاتون کو بھی اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے محتاط رہنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: سال 2025: سپریم کورٹ، آئین، سیاست اور انصاف، فیصلے جو تاریخ بدل گئے

جسٹس مسرت ہلالی نے بھی کہا کہ خاتون کو خود اپنی عزت کروانا ہوتی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی ویزا کیس جسٹس جمال مندوخیل جسٹس مسرت ہلالی جعلی دستاویزات سپریم کورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ویزا کیس جسٹس جمال مندوخیل جسٹس مسرت ہلالی جعلی دستاویزات سپریم کورٹ سپریم کورٹ

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور