لکی مروت دھماکا؛ بس پر آئی ای ڈی نصب کرنے والا دہشتگرد مقابلے میں مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لکی مروت:
لکی مروت میں بس کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے سے تباہ کرنے والا دہشت گرد مقابلے میں مارا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لکی مروت میں فیکٹری جانے والی بس پر آئی ای ڈی حملے کے فوراً بعد پولیس کا دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ اس آپریشن میں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان خود موقع پر موجود رہے، جن کی قیادت میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کیا گیا۔
مقابلے کے دوران پولیس کی مؤثر کارروائی سے بس پر آئی ای ڈی نصب کرنے والا دہشت گرد مارا گیا۔
مزید پڑھیںلکی مروت؛ امن کمیٹی کے سرکردہ رکن کا سولر ٹیوب ویل بارودی مواد سے اڑا دیا گیا
لکی مروت؛ سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو بارود سے اُڑا دیا گیا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی
لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ لکی مروت میں سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو دہشت گردوں نے بارود سے اڑا دیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 2 خواتین بھی شامل تھیں۔
بیگوخیل سڑک پر ناورخیل موڑ کے قریب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لکی مروت میں آئی ای ڈی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔