پاکستان میں خواتین میں خون کی کمی سنگین بحران کی شکل اختیار کر گئی، ہر دوسری خاتون متاثر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں خواتین کی صحت سے متعلق ایک سنجیدہ اور تشویشناک تصویر سامنے آ گئی ہے، جہاں خون کی کمی ایک خاموش مگر وسیع پیمانے پر پھیلتا ہوا بحران بنتی جا رہی ہے۔
حالیہ تحقیق کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون اس مسئلے سے متاثر ہے، جو نہ صرف انفرادی صحت بلکہ قومی ترقی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ انکشاف نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے وزارتِ قومی صحت کے زیر اہتمام بھوربن میں منعقدہ ’نیشنل پالیسی ڈائیلاگ آن اکنامک کیس فار میٹرنل نیوٹریشن‘ کے دوران پیش کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 15 سے 49 سال کی عمر کی تقریباً 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ ہر سال 9 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین اس بیماری سے متاثر ہو جاتی ہیں، جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔
تحقیق کے مطابق خواتین میں آئرن کی کمی اس حد تک عام ہو چکی ہے کہ مسلسل تھکن، کمزوری، سانس پھولنا اور چکر آنا روزمرہ کی معمولی شکایات بن کر رہ گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق حمل کے دوران خون کی کمی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے، اور چونکہ پاکستان میں شرحِ پیدائش اب بھی بلند ہے، اس لیے بچوں کی پیدائش کے درمیان کم وقفہ اور ناقص غذائیت خواتین کی صحت کو مزید کمزور کر رہی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے خاندان کا حجم بڑھتا ہے، خوراک کی تقسیم میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ اکثر مائیں گھر کے دیگر افراد کو ترجیح دیتی ہیں اور اپنی غذائی ضروریات کو نظر انداز کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں خون کی کمی مزید شدت اختیار کر لیتی ہے۔ آبادی کا یہ دباؤ صرف خواتین تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بچوں تک بھی منتقل ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 28 لاکھ بچوں میں خون کی کمی کی تشخیص ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کا شکار ماؤں سے پیدا ہونے والے بچوں کا وزن عموماً کم ہوتا ہے، یہ بچے تعلیمی کارکردگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور بیماریوں کا شکار بھی زیادہ ہوتے ہیں، جس سے ایک پورا صحت اور تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔
ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے محض وقتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ آئرن سپلیمنٹس کے استعمال کے ساتھ ساتھ متوازن غذائیت کی فراہمی، خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مؤثر آگاہی اور صحت کے بنیادی وسائل کی وسیع سطح پر دستیابی ناگزیر ہے، اگر بروقت اور جامع حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو خون کی کمی کا یہ بحران مستقبل میں پاکستان کے لیے ایک بڑے سماجی اور معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں خون کی کمی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔