تمام وائرس صحت کے لیے نقصان دہ نہیں، کچھ فائدہ مند بھی ہوسکتےہیں، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
مائیکروبز جلد اور تولیدی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی ہیں، سائنس دان
سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ تمام وائرس انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ کچھ فائدہ مند بھی ہوسکتے ہیں۔
طبی جریدے مائیکروبائل بائیوٹیکنالوجی میں آسٹریلیا کی فائنڈرز یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیک رابنسن کی سبراہی میں سائنس دانوں کے شائع تحقیقی پرچے میں کہا گیا ہے کہ تمام بیکٹیریا یا وائرس نقصان دہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ کچھ ہماری صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں جیسا کہ تمام مائیکروبس ہمیں بیمار نہیں کرتے اور کچھ ہمیں صحت مند رکھنے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن نے لکھا کہ نئے شواہد بتاتے ہیں کہ مختلف ماحولیاتی مائیکرو بایومز اور قدرتی حیاتی کیمیائی مصنوعات کا سامنا کرنے سے بھی صحت کی بہتری میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنوع کو کسی چیز کے ختم کرنے کے قابل سمجھنے کے بجائے جدید طریقے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ متنوع ماحولیاتی نظام صحت بخش ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت بخش مائیکروبز صحت کو سہارا دیتے ہیں کیونکہ یہ مدافعتی نظام کی ترتیب، میٹابولزم، بیماریوں کی روک تھام، دباؤ میں کمی اور ماحولیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جیک رابنسن نے وضاحت کی کہ تقریباً ایک صدی تک ہوا میں موجود مائیکروبز اور کیمیائی مرکبات کو بنیادی طور پر خطرات کے طور پر دیکھا گیا اورانفیکشن، بیماری اور آلودگی کا سبب قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مگر یہ نئی تحقیق اس غیر مرئی حیاتیاتی تنوع کو سامنے لاتی ہے جو انسانی اور خلائی صحت کے لیے فعال طور پر معاون کا کردار کرتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مائیکروبز جلد اور تولیدی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی ہیں جن میں بہتر غذائی اجزا کا ہضم ہونا، سوزش میں کمی اور خون میں شوگر کا بہتر کنٹرول کرنا شامل ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم کے اندر موجود مائیکروبز کے وسیع مجموعے کو ‘مائیکرو بایوم’ کہا جاتا ہے اسی طرح مائیکروبز کی مختلف اقسام ہیں تاہم عام طور پر پائے جانے والی اقسام میں فنگی، الجی، بیکٹیریا، وائرس، پروٹوزوا، آرکی اور پرایون شامل ہیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن نے کہا کہ صحت مند مائیکروبز بحال کر کے ہم متعدد فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ مائیکروبز انسانی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں، یہ وٹامن پیدا کرتے ہیں، ہاضمے میں مدد دیتے ہیں اور مدافعتی نظام کو تربیت دیتے ہیں تاکہ یہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے خلاف مدافعت کرسکیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن نے کہا کہ جیسا کہ حیاتیاتی تنوع کا نقصان ہماری صحت کے لیے خطرہ ہے، مائیکروبیل اور حیاتی کیمیائی دولت کو بحال کرنا صحت مند مستقبل کی کنجی ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈاکٹر جیک رابنسن جیک رابنسن نے صحت کے لیے فائدہ مند نے کہا کہ ہوتے ہیں
پڑھیں:
5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے
پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے
بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ
جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔
کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں
کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔