سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی کا سیاسی تجربہ، گاندھی خاندان کا اثر و رسوخ اور تنظیم پر انکی مضبوط گرفت، گورو گگوئی جیسے نوجوان لیڈر کیساتھ ملکر آسام میں کانگریس کو نئی توانائی دے سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی سیاست ایک بار پھر انتخابی موڈ میں داخل ہو چکی ہے۔ سالِ رواں میں کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے وقت میں کانگریس پارٹی نے اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال جیسے سیاسی طور پر اہم ریاستوں میں انتخابات سے قبل کانگریس نے اسکریننگ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اگرچہ یہ عمل کانگریس کے لئے نیا نہیں ہے، لیکن آسام کو لے کر پارٹی نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ آسام کی اسکریننگ کمیٹی کی صدارت کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو سونپی گئی ہے، جسے محض ایک تنظیمی تقرری نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب گاندھی خاندان کے کسی فرد کو کسی ریاست کی اسکریننگ کمیٹی کی سربراہی دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف کانگریس کارکنوں بلکہ مخالف جماعتوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر آسام ہی کیوں اور اس تقرری کے پیچھے کانگریس کی طویل مدتی سیاسی سوچ کیا ہے۔

اسکریننگ کمیٹی کانگریس کے انتخابی نظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران ہر نشست سے درجنوں امیدوار پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ان امیدواروں کی سیاسی ساکھ، عوامی مقبولیت، تنظیمی وابستگی، سماجی توازن اور انتخاب جیتنے کی صلاحیت کا جائزہ لے کر انہیں ترجیحی فہرست میں شامل کرنا اسکریننگ کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگرچہ حتمی فیصلہ مرکزی انتخابی کمیٹی کرتی ہے، لیکن عملی طور پر امیدواروں کے انتخاب میں اسکریننگ کمیٹی کا کردار فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔ آسام جیسے پیچیدہ سیاسی منظرنامے والی ریاست میں، جہاں علاقائی جماعتیں، ذات پات کا توازن، قبائلی سیاست اور لسانی مسائل انتخابی نتائج کو متاثر کرتے ہیں، وہاں امیدواروں کا درست انتخاب کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق پیدا کر سکتا ہے۔

پرینکا گاندھی کو آسام کی اسکریننگ کمیٹی کا صدر بنانا کئی حوالوں سے غیر معمولی قدم ہے۔ اب تک کانگریس میں اس نوعیت کی ذمہ داریاں زیادہ تر سینئر تنظیمی لیڈروں یا ریاستی امور کے ماہر لیڈروں کو دی جاتی رہی ہیں۔ گاندھی خاندان کے افراد عموماً انتخابی مہم، عوامی رابطے اور پارٹی کی نظریاتی سمت طے کرنے میں نظر آتے تھے، لیکن امیدواروں کے براہ راست انتخابی عمل میں ان کی شمولیت کم ہی رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے کانگریس قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ آسام کے انتخابات پارٹی کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور یہاں کسی قسم کی اندرونی کمزوری یا غلط فیصلے کی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی۔

آسام کی اسکریننگ کمیٹی میں پرینکا گاندھی کے ساتھ عمران مسعود کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ عمران مسعود وہی لیڈر ہیں جو حالیہ دنوں میں پرینکا گاندھی سے متعلق اپنے ایک بیان کی وجہ سے خبروں میں رہے تھے، جس میں انہوں نے پرینکا گاندھی کو مستقبل کی وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کی بات کہی تھی۔ اس بیان پر سیاسی حلقوں میں خاصی بحث چھڑی تھی اور مخالف جماعتوں نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایسے میں عمران مسعود کا اسی کمیٹی میں شامل ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس فی الحال بیانات یا تنازعات کے بجائے انتخابی حکمتِ عملی اور تنظیمی مضبوطی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔ پارٹی قیادت شاید یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انفرادی بیانات سے زیادہ اہم اجتماعی ذمہ داریاں اور انتخابی کامیابی ہے۔

پرینکا گاندھی کو آسام کی ذمہ داری سونپے جانے کے پیچھے کئی سیاسی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ آسام کانگریس کے موجودہ ریاستی صدر گورو گگوئی کو پارٹی کے ابھرتے ہوئے اور مؤثر نوجوان لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے فرزند ہیں اور لوک سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر کی حیثیت سے راہل گاندھی کے بعد اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کانگریس قیادت گزشتہ کچھ برسوں سے پارٹی میں "نئی نسل" کے لیڈروں کو آگے بڑھانے کی بات کر رہی ہے، جن میں گورو گگوئی، سچن پائلٹ، جیتو پٹواری اور دیگر نوجوان چہرے شامل ہیں۔ پرینکا گاندھی کو آسام بھیج کر پارٹی نے ایک طرح سے تجربہ کار قیادت اور نوجوان لیڈرشپ کے امتزاج کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی کا سیاسی تجربہ، گاندھی خاندان کا اثر و رسوخ اور تنظیم پر ان کی مضبوط گرفت، گورو گگوئی جیسے نوجوان لیڈر کے ساتھ مل کر آسام میں کانگریس کو نئی توانائی دے سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسکریننگ کمیٹی کی کی اسکریننگ کمیٹی پرینکا گاندھی کو گاندھی خاندان نوجوان لیڈر میں کانگریس کانگریس کے آسام کی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان