آسام میں اسکریننگ کمیٹی کی صدارت پرینکا گاندھی کو سونپنا ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی ہے، مبصرین
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی کا سیاسی تجربہ، گاندھی خاندان کا اثر و رسوخ اور تنظیم پر انکی مضبوط گرفت، گورو گگوئی جیسے نوجوان لیڈر کیساتھ ملکر آسام میں کانگریس کو نئی توانائی دے سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی سیاست ایک بار پھر انتخابی موڈ میں داخل ہو چکی ہے۔ سالِ رواں میں کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے وقت میں کانگریس پارٹی نے اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال جیسے سیاسی طور پر اہم ریاستوں میں انتخابات سے قبل کانگریس نے اسکریننگ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اگرچہ یہ عمل کانگریس کے لئے نیا نہیں ہے، لیکن آسام کو لے کر پارٹی نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ آسام کی اسکریننگ کمیٹی کی صدارت کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو سونپی گئی ہے، جسے محض ایک تنظیمی تقرری نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب گاندھی خاندان کے کسی فرد کو کسی ریاست کی اسکریننگ کمیٹی کی سربراہی دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف کانگریس کارکنوں بلکہ مخالف جماعتوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر آسام ہی کیوں اور اس تقرری کے پیچھے کانگریس کی طویل مدتی سیاسی سوچ کیا ہے۔
اسکریننگ کمیٹی کانگریس کے انتخابی نظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران ہر نشست سے درجنوں امیدوار پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ان امیدواروں کی سیاسی ساکھ، عوامی مقبولیت، تنظیمی وابستگی، سماجی توازن اور انتخاب جیتنے کی صلاحیت کا جائزہ لے کر انہیں ترجیحی فہرست میں شامل کرنا اسکریننگ کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگرچہ حتمی فیصلہ مرکزی انتخابی کمیٹی کرتی ہے، لیکن عملی طور پر امیدواروں کے انتخاب میں اسکریننگ کمیٹی کا کردار فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔ آسام جیسے پیچیدہ سیاسی منظرنامے والی ریاست میں، جہاں علاقائی جماعتیں، ذات پات کا توازن، قبائلی سیاست اور لسانی مسائل انتخابی نتائج کو متاثر کرتے ہیں، وہاں امیدواروں کا درست انتخاب کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق پیدا کر سکتا ہے۔
پرینکا گاندھی کو آسام کی اسکریننگ کمیٹی کا صدر بنانا کئی حوالوں سے غیر معمولی قدم ہے۔ اب تک کانگریس میں اس نوعیت کی ذمہ داریاں زیادہ تر سینئر تنظیمی لیڈروں یا ریاستی امور کے ماہر لیڈروں کو دی جاتی رہی ہیں۔ گاندھی خاندان کے افراد عموماً انتخابی مہم، عوامی رابطے اور پارٹی کی نظریاتی سمت طے کرنے میں نظر آتے تھے، لیکن امیدواروں کے براہ راست انتخابی عمل میں ان کی شمولیت کم ہی رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے کانگریس قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ آسام کے انتخابات پارٹی کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور یہاں کسی قسم کی اندرونی کمزوری یا غلط فیصلے کی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی۔
آسام کی اسکریننگ کمیٹی میں پرینکا گاندھی کے ساتھ عمران مسعود کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ عمران مسعود وہی لیڈر ہیں جو حالیہ دنوں میں پرینکا گاندھی سے متعلق اپنے ایک بیان کی وجہ سے خبروں میں رہے تھے، جس میں انہوں نے پرینکا گاندھی کو مستقبل کی وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کی بات کہی تھی۔ اس بیان پر سیاسی حلقوں میں خاصی بحث چھڑی تھی اور مخالف جماعتوں نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایسے میں عمران مسعود کا اسی کمیٹی میں شامل ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس فی الحال بیانات یا تنازعات کے بجائے انتخابی حکمتِ عملی اور تنظیمی مضبوطی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔ پارٹی قیادت شاید یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انفرادی بیانات سے زیادہ اہم اجتماعی ذمہ داریاں اور انتخابی کامیابی ہے۔
پرینکا گاندھی کو آسام کی ذمہ داری سونپے جانے کے پیچھے کئی سیاسی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ آسام کانگریس کے موجودہ ریاستی صدر گورو گگوئی کو پارٹی کے ابھرتے ہوئے اور مؤثر نوجوان لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے فرزند ہیں اور لوک سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر کی حیثیت سے راہل گاندھی کے بعد اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کانگریس قیادت گزشتہ کچھ برسوں سے پارٹی میں "نئی نسل" کے لیڈروں کو آگے بڑھانے کی بات کر رہی ہے، جن میں گورو گگوئی، سچن پائلٹ، جیتو پٹواری اور دیگر نوجوان چہرے شامل ہیں۔ پرینکا گاندھی کو آسام بھیج کر پارٹی نے ایک طرح سے تجربہ کار قیادت اور نوجوان لیڈرشپ کے امتزاج کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی کا سیاسی تجربہ، گاندھی خاندان کا اثر و رسوخ اور تنظیم پر ان کی مضبوط گرفت، گورو گگوئی جیسے نوجوان لیڈر کے ساتھ مل کر آسام میں کانگریس کو نئی توانائی دے سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسکریننگ کمیٹی کی کی اسکریننگ کمیٹی پرینکا گاندھی کو گاندھی خاندان نوجوان لیڈر میں کانگریس کانگریس کے آسام کی
پڑھیں:
25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
سٹی 42: 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔
صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔