بلوچستان میں دفعہ 144 کا نفاذ کوئی حل نہیں، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
جے یو آئی کے ترجمان نے حکومت کیجانب سے بار بار دفعہ 144 کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے جرائم پیشہ افراد کے بجائے غریب عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کوئٹہ نے حکومت بلوچستان کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے نوٹیفکیشن کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کسی صورت موثر حل نہیں۔ اپنے بیان میں ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ ماضی میں بھی متعدد بار دفعہ 144 نافذ کی گئی، لیکن اس سے نہ تو جرائم میں کمی آئی اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی، بلکہ اس کے برعکس عام شہری، محنت کش اور غریب موٹر سائیکل سوار ہی اس کے منفی اثرات کا شکار بنتے رہے ہیں۔ چوکوں اور ناکوں پر کھڑی پولیس کی جانب سے عوام کو ہراساں کرنا اور رشوت ستانی ایک معمول بن چکا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد اس طرح کے اقدامات سے کبھی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ عام شہری بلاجواز پابندیوں کی زد میں آتے ہیں۔ ترجمان نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ نمائشی اقدامات کے بجائے موثر اور عملی حکمت عملی اختیار کرے۔ پولیس نظام کو بہتر بنائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابدہ بنا کر حقیقی معنوں میں جرائم کی روک تھام کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر ایسے فیصلے عوامی بے چینی اور بداعتمادی میں مزید اضافہ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔