عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے‘ علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کے ان کو آرڈر ہونا ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے، میرے خلاف سزا لکھی گئی ہے اس کیس میں نہیں تو کسی اور کیس میں دے دیں گے،عدلیہ آزاد ہوتی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں نہ ہوتے۔ انسداد دہشت گردی عدالت باہر میڈیا ٹاک کرتے علیمہ خان کا کہنا تھا کے جھوٹے مقدمات سے نہیں ڈرتے۔آج اڈیالہ جیل عمران خان سے فیملی ملاقات ڈے ہے۔ہم ایک بجے اڈیالہ جیل باہر پہنچیں گے۔ڈیڑھ بجے اڈیالہ جیل باہر شہدا اور غیر قانونی گرفتاری بابت سورہ یاسین کا ختم ہوگا۔ہمیں آج بھی ملاقات اجازت نا دی گئی تو روڈ پر ہم بہنیں بیٹھ کر انتظار کریں گے، بانی پی ٹی آئی نے 26نومبر کی کال 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دی تھی اس ترمیم کے تحت 17سیٹوں والی جماعت کو اقتدار میں بٹھایا گیا۔ بانی نے قانون کی حکمرانی،عدلیہ کی آزادی کے لیے 26نومبر احتجاج کی کال دی تھی26ویں ترمیم کے ذریعے عوام کا حق حکمرانی ختم کر دیا گیا 26ویں ترمیم کے بعد مرضی کے ججز لگا کر سزائیں دی گئیں۔ 26نومبر کے مقدمے میں مجھ پر الزام ہے کہ میں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں انہوں نے عوام کا ووٹ چوری کیا آج آپ دیکھ لیں عدلیہ اور قانون کا کیا حال ہے میرے خلاف کیس لگنا کی نہیں چاہیے تھا۔ ٹی وی پر بیٹھ کر حکومت والے کہہ رہے ہیں کہ مجھے ایک ماہ میں سزا ملی ہے جج صاحب حکومتی عہدے داروں کے خلاف توہین عدالت بھی نہیں لگا سکتے،ان کو کیسے پتا ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے ان کو آرڈر ہونا ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے میرے خلاف سزا لکھی گئی ہے اس کیس میں نہیں کسی اور کیس میں دے دیں گے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہم چپ کر جائیں،لیکن ہم تو کھڑے رہیں گے بانی نے کہا ہے کہ جہدوجہد عبادت ہے ہم عبادت سمجھ کر پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے ،ووٹ چوری کرنے پر آرٹیکل 6 لگتا ہے یہ سب ووٹ چوری کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ان پر کیا لگنا چاہیے۔ یہ پنجاب حکومت مینڈیٹ چوری کر کے بیٹھی ہوئی ہے یہ ڈری ہوئی حکومت ہے میرے اوپر چارجز عمران خان کا پیغام پہنچانے کے لگائے ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج مقدمہ میں ملزمہ کی جانب سے دائر بریت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔ اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان کی بریت کی درخواست پر فریقین وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علیمہ خان ترمیم کے کہ مجھے کیس میں
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔