شمالی کوریا کا ہائپرسونک میزائل تجربات کے بعد ایٹمی جنگ کیلیے مکمل تیاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک ) شمالی کوریا نے جدید ترین ہائپرسونک میزائلوں کے تجربات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جوہری افواج جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن نے پیانگ یانگ میں میزائل لانچ مشقوں کی خود نگرانی کی اور کہا کہ موجودہ عالمی جغرافیائی و سیاسی بحران کے تناظر میں یہ تجربات انتہائی ضروری تھے۔جنوبی کوریا اور جاپان کے مطابق اتوار کے روز پیانگ یانگ کے قریب سے دو بیلسٹک میزائل داغے گئے، جو رواں سال کا پہلا میزائل تجربہ تھا۔یہ لانچ ایسے وقت میں ہوا جب جنوبی کوریا کے صدر چین کے دورے پر روانہ ہورہے تھے، جہاں شمالی کوریا کے معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اْن نے کہا کہ حالیہ تجربات سے شمالی کوریا کی جوہری افواج کی عملی جنگی تیاری ظاہر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔شمالی کوریا کے سربراہ نے حالیہ عالمی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی جیسے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ قومی سلامتی کے لیے مضبوط دفاعی طاقت کیوں ضروری ہے۔ پیانگ یانگ نے امریکی اقدام کو خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ وہ جنگی روک تھام اور جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز ہوتے ہیں اور دورانِ پرواز راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا پیانگ یانگ کے مطابق کوریا کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔