کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں
کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار بھی برآمد کرلی گئی، سی ٹی ڈی حکام کی پریس کانفرنس
(رپورٹ : افتخار چوہدری)انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اور بڑا کارنامہ سامنے آگیا جب کہ کراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔کئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی گئی۔جب کہ پریمیٔر انٹیلی جنس ایجنسی کی انتھک کاوش کے نتیجے میں مصدقہ اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔کارروائی میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد تباہ کن بارودی مواد برآمد کیا، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر نے اہم پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار دہشت گرد سے تفتیش کے بعد ایک اور کامیابی ملی، گذشتہ رات دو مزید دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں، اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا۔برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں، دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی، آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا۔عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی، کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سیاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا۔شواہد کے مطابق نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے، بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے، فتنة الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جوڑنے کے شواہد ہیں، یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکا خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مؤثر جانچ ناگزیر ہے۔یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال پر قوانین کے سخت نفاذ پر زور لازمی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔دہشت گرد منصوبے کے تمام ذمہ داروں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس ا بارودی مواد دھماکہ خیز خیز مواد کے لیے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔