Express News:
2026-06-03@01:12:49 GMT

افغان مہاجرین کی پرتشدد سرگرمیاں، جرمنی اور ترکیہ میں ملک بدری تیز

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

جرمنی اور ترکیہ میں افغان مہاجرین کی مبینہ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ملک بدری کے اقدامات میں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف غیر ملکی اور افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد ممالک افغان مہاجرین کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات بیرونِ ملک مقیم افغان مہاجرین کے رویّوں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کئی ممالک میں ہنگامہ آرائی، منشیات اسمگلنگ اور دیگر پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے شواہد سامنے آنے کے بعد میزبان ممالک نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

افغان جریدے آریانہ نیوز کے مطابق جرمنی میں سخت امیگریشن پالیسی نافذ کی جا رہی ہے اور حال ہی میں منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایک اور افغان پناہ گزین کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 83 افغان پناہ گزینوں کو سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر جرمنی سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں

افغانستان میں گرفتاری کے قوانین مزید سخت؛ امیرِ طالبان کا نیا فرمان جاری

اقوام متحدہ کے بعد افغان میڈیا کا انکشاف، طالبان کے مبینہ جرائم بے نقاب

افغانستان کے معدنی وسائل طالبان کمانڈرز کی جیبوں میں، ماہانہ کروڑوں ڈالر کمائی کا انکشاف

جرمن فارن نیشنلز رجسٹریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 11 ہزار 888 رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو جرمنی چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے جرائم میں ملوث افغان مہاجرین سمیت تمام غیر قانونی پناہ گزینوں کی واپسی کو ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ حکمران جماعت کریسٹین سوشل یونین نے بھی افغان مہاجرین کی فوری اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ میں بھی افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ترک حکام کے مطابق ایک کارروائی میں 32 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا جو ٹینکر میں چھپ کر یورپی ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ترک امیگریشن اتھارٹی کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 42 ہزار غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کی دہشت گردی اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن اور اسپیشل امیگرنٹ ویزا ہولڈرز پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان کی انتہا پسندی اور افغان مہاجرین کی سرگرمیاں پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی کے مطابق میں ملوث

پڑھیں:

بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک  ہوئے ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،

ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی