مختلف وزارتوں سےفاضل قرار دیئے گئےملازمین کوایف بی آرمیں ضم کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کلیم اختر:ایف بی آر میں سرپلس ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے, جس کے تحت مختلف وزارتوں سے فاضل قرار دیئے گئے ملازمین کو ایف بی آر میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
ذرائع کے مطابق جس پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات کے تحت عملدرآمد کرتے ہوئے ایف بی آر نے باقاعدہ آفس آرڈر جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ وزارت سے تعلق رکھنے والے افسران اور اہلکاروں کو ایف بی آر منتقل کیا گیا ہے، جن میں گریڈ 16 کے افسران کے علاوہ 11 یو ڈی سی، ایل ڈی سی اور نائب قاصد بھی شامل ہیں۔ منتقل ہونے والے ملازمین کو ان لینڈ ریونیو کی فیلڈ فارمیشنز میں خالی آسامیوں پر تعینات کیا جائے گا اور ان کی پوسٹنگ مختلف ٹیکس دفاتر میں کی جائے گی۔
نجی تعلیمی اداروں کا اینٹی کرپشن کارروائیوں کیخلاف سندھ بھر میں ہڑتال کا اعلان
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ سرپلس سٹاف کی ایڈجسٹمنٹ سے انتظامی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ تمام تعیناتیاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اس فیصلے کے تحت کی گئی ہیں جس کا مقصد مختلف اداروں میں سرپلس ملازمین کو مؤثر انداز میں ضم کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ملازمین کو ایف بی آر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔