پاکستان اور سری لنکا ٹی20 سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کردی گئی، تقریب میں پاکستان کے کپتان سلمان آغا اور سری لنکن کپتان داسن شناکا نے مشترکہ طور پر ٹرافی سے پردہ اٹھایا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو ورلڈکپ سے قبل سری لنکا میں میچز کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو تیاری کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق سری لنکا کی کنڈیشنز میں کھیلنے سے ٹیم کو ورلڈکپ کے لیے بہتر تیاری اور حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا ٹی20 سیریز: پاکستان کا پہلا گروپ کولمبو پہنچ گیا
پاکستانی کپتان نے کہا کہ بابر اعظم، شاہین آفریدی اور محمد رضوان میگا اسٹارز ہیں اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مستقبل کے کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع دیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو پرکھا جا سکے۔
سلمان آغا کا کہنا تھا کہ خواجہ نافع ایک اچھے بیٹسمین ہیں اور وکٹ کیپنگ بھی مؤثر انداز میں کرتے ہیں، امید ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ جیسی کارکردگی اس سیریز میں بھی دکھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیم مضبوط کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترے گی اور سیریز جیت کر وطن واپس آنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کھلاڑی مختلف انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی لیگز میں اچھی کارکردگی کے بعد ٹیم کا حصہ بنے ہیں اور توقع ہے کہ وہ اسی تسلسل کو برقرار رکھیں گے۔ شاہین شاہ آفریدی کے حوالے سے سلمان آغا نے کہا کہ ان کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ری ہیب جاری ہے اور امید ہے کہ وہ ورلڈکپ سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ سیریز: دورہ سری لنکا کے لیے 16 رکنی قومی ٹیم کا اعلان ہو گیا
سلمان آغا کے مطابق شاداب خان طویل انجری کے بعد کم بیک کر چکے ہیں اور انہوں نے بگ بیش لیگ میں اچھی پرفارمنس دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں موجود تمام اسپنرز آل راؤنڈرز ہیں، جنہیں ایک ساتھ مینج کرنا ایک چیلنج ضرور ہے، تاہم ٹیم اس چیلنج کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان ٹرافی ٹی20 سیریز رونمائی سری لنکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹرافی ٹی20 سیریز سری لنکا سری لنکا انہوں نے ہیں اور کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔