مذاکرات کی بات پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی تو اسے نہ ہی سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
مذاکرات کی بات پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی تو اسے نہ ہی سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے۔پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے کے موقع پر داہگل ناکا اڈیالا روڈ پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مذاکرات کی بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے کیونکہ نہ پانچ بڑے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہوں گے؟۔ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور ملاقات کے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے بانی سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی، حالات معمول پر لانے کی بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنی کوشش کی حالات ٹھیک ہوں دوسری طرف سے اتنی ہی کوشش حالات خراب کرنے کے لیے کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی اور ان کی جماعت کی سب سے بڑی قوت اس کے ورکرز ہیں۔ ریاست نے جتنی سختیاں کیں کارکنان نے برداشت کی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حالات معمول پر لانے کے لیے عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات ضروری ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اچکزئی صاحب اور علامہ صاحب کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران اسماعیل کا انہیں بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ہم اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی بات پر پبلک میں کمنٹ نہیں کرتا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے وضاحت کی کہ بھیک مانگنے کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، ان کا مقصد یہ تھا کہ عدالتی احکامات، ایس او پیز اور قوانین موجود ہونے کے باوجود ملاقات نہیں دی جاتی اور اگر عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دی جائے تو یہ بھیک ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سسٹم ساکت ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال فروری سے اب تک لیڈر شپ کی ملاقات نہیں ہوئی۔ اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بانی کی ہدایات ہیں۔ پارٹی کی کوئی کمیٹی ان ہدایات کو نظر انداز نہیں کر سکتی، احتجاج ہمارا حق ہے اور پارٹی کا لائحہ عمل موجود ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے لیکن پانچ بڑوں کی بات کرنے کی کوئی منطق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر صاحب نے نوٹیفکیشن کے حوالے سے آئندہ اجلاس تک فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ اجلاس سے قبل اپوزیشن لیڈرز کا نوٹیفکیشن جاری ہو۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے توقع ہے کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کو پورا پروٹوکول دینے کی بات کی تائید کرتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ سینیٹر علی ظفر کو بانی کا اعتماد حاصل ہے جب کہ ابڑو صاحب کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے کبھی کوئی چیز سبوتاژ نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تب تک عہدے پر ہوں جب تک بانی کا اعتماد حاصل ہے۔دریں اثنا عمران خان کی بہن علیمہ خان نے گورکھپور ناکا پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن خوانی میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ راستے بند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جہاں روکا جاتا ہے وہیں قرآن خوانی کر لیتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، بانی کو قید میں رکھ کر انہیں کیا ملے گا، آئین مسلسل قید تنہائی کے حوالے سے واضح ہے۔ یہ بانی سے ڈرے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ باہر آ کر لوگوں کی آزادی کی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ پولیس والوں سے اپیل ہے کہ محنت مزدوری کریں لیکن غیرقانونی احکامات نہ مانیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک ان سے نہیں سنبھل رہا، لوگ ان سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہم ملاقات کے لیے آتے ہیں لیکن ملاقات نہیں کرائی جاتی، میڈیا میں بانی کا نام تک نہیں لیا جاتا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کی خبریں چلتی ہیں۔واضح رہے کہ منگل کو عمران خان اور بشری بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن تھا ، جس کے لیے پی ٹی آئی کارکنان گورکھپور ناکا پہنچے جب کہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی۔ اڈیالہ جیل جانے والے راستے 5 مقامات پر ناکے لگا کر بند کر دیے گئے ۔اسی دوران فیکٹری ناکے پر پی ٹی آئی کارکنان نے قرآن خوانی کی۔ راولپنڈی پولیس نے دھرنے کی جگہ پر پانی کا ٹینکر لاکر پانی چھوڑ دیا جس پر دھرنے کی جگہ پر پانی پھیل گیا مجبورا دھرنے کے شرکا کو جگہ تبدیل کرنی پڑی اور پولیس نے بھی وہاں سے ٹینکر ہٹالیا۔ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قرآن خوانی ہمارے دین کا حصہ ہے، گندا پانی پھینکا جانا شرم کی بات ہے، ہم جابر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہتے رہیں گے، ہم تلاوت بھی کریں گے اور آزادی کا نعرہ بھی لگائیں گے۔ بعد ازاں اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر علیمہ خان کا دھرنا جاری ہیں، جہاں ان کی دیگر دو بہنیں نورین نیازی اور عظمی خان بھی موجود ہیں جب کہ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے، اس دوران عمران خان کی بقیہ دو بہنیں نورین نیازی اور عظمی خان بھی فیکٹری ناکے پر پہنچ گئیں۔بعدازاں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور بنگلہ دیشی فوج کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیشی فوج کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق آستانہ عالیہ نقشبندیہ عبیدیہ اسلام آباد کے 29ویں سالانہ عرسِ پاک و پیغامِ عشقِ رسول کی تین روزہ تقریبات اختتام پذیر سوڈان اور پاکستان میں طویل مدتی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات ہیں ،صالح محمد احمد سابق صدر فیصل آباد چیمبرآف کامرس ڈاکٹر خرم طارق کی ملائیشین ہائی کمشنر سے ملاقات این سی سی آئی اے کی بڑی کارروائی، خواتین کو ہراساں کرنے والا ملزم راولپنڈی سے گرفتار دہشت گردی کے خلاف لڑائی پوری قوم کی جنگ، خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں: پاک فوجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تو اسے نہ ہی سمجھا جائے چیئرمین پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بات بیرسٹر گوہر نے ملاقات نہیں قرآن خوانی بتایا کہ نہیں کر کے لیے
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔