وینزویلا میں امریکی تیل کمپنیاں 18 ماہ کے اندر کام شروع کردیں گی؛ ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں امریکا کی آئل کمپنیاں 18 ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال ہوکر اپنا کام شروع کرسکتی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3 جنوری کی شب امریکی فوج نے وینزویلا کے صدارتی محل میں گھس صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی چینل این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو بحال کرنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی جو امریکی تیل کمپنیاں کریں گی۔
ان کے بقول یہ امریکی آئل کمپنیاں پہلے سرمایہ کاری کریں گی اور اس کے بعد امریکی حکومت یا تیل کی آمدنی کے ذریعے انہیں یہ رقوم واپس ادا کی جائے گی۔
علاوہ ازیں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں امریکی حکومت اور بڑی تیل کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے۔
دوسری جانب توانائی کے ماہرین ٹرمپ کے دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کیوں کہ وینزویلا کی تیل پیداوار بحال کرنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل کی پیداوار کی مکمل بحالی میں 10 سال تک لگ سکتے ہیں۔ جب کہ سیاسی استحکام کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔
خیال رہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ ثابت شدہ تیل ذخائر (تقریباً 303 ارب بیرل) موجود ہیں مگر بدانتظامی، پابندیوں اور پرانی تنصیبات کے باعث پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ یہاں کا تیل بھاری نوعیت کا ہے جسے صاف کرنا مہنگا اور مشکل کام ہے۔ اس وقت صرف شیورون (Chevron) نامی امریکی کمپنی محدود پیمانے پر وینزویلا میں کام کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا نے امریکی تیل "چھین لیا" تھا۔
تاہم توانائی کے قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل ریاست کی ملکیت ہے نہ کہ امریکا کا اس پر کوئی حق ہے۔
اس امور سے واقف ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں صرف لائسنس کے تحت تیل نکال سکتی ہیں۔
وینزویلا نے 1976 میں تیل کا شعبہ قومی تحویل میں لیا تھا تاہم 2007 میں صدر ہوگو شاویز نے غیر ملکی کمپنیوں پر مزید ریاستی کنٹرول نافذ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں کی تیل
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔