گیس صارفین کیلئےخوشخبری، حکومت کا گیس کی قیمت سے متعلق اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے یکم جنوری سے گیس کی قیمت نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو بریفنگ کے دوران کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گیس کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے اور وزیراعظم کے احکامات پر جنوری 2026 سے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیس کے سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافہ نہیں ہو رہا ہے، گیس کا سرکلر ڈیٹ 3 ہزار ارب ہے جس میں ایل پی ایس بھی شامل ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ قطر نے مشکل صورت حال میں کنٹریکٹ کی شرائط برقرار رکھیں، قطر سے جب عالمی سطح پر ایل این جی کارگو 30 ڈالر تک گیا پھر بھی قطر نے معاہدے کے تحت ہمیں فراہمی جاری رہی اور ہم قطر کے اس تعلق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گیس کے گردشی قرض کا فلو صفر ہے، اس وقت گیس کا گردشی قرض 3ہزار ارب روپے ہے، گیس کے گردشی قرض میں 1700 ارب روپے سود کے ہیں، اگر گردشی قرض بڑھ رہا ہوتا تو گیس کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ رواں سال گیس کی قیمت نہیں بڑھائی جائے گی، رواں سال گیس کی قیمت برقرار رہیں گی۔
قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور سیکٹر صبح 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگتا ہے، دن 12 بجے وہی سیکٹر 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگ رہا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر نے جنوری میں 200 ایم ایم سی مانگی ہے، اب کہہ رہے ہیں 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیں، انڈس بیسن میں ترکش پیٹرولیم نے سمندر میں ڈرلنگ کرنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنیاں بھی جوائنٹ وینچر میں ہیں ہم نے ان کو پیسے دینے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیس کی قیمت ایم ایم سی نے کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔