ہر سال جنوری آتے ہی ’’ڈائٹ‘‘ اور ’’وزن کم کرنے‘‘ سے متعلق موضوعات کی تلاش میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ جم دوبارہ آباد ہونے لگتے ہیں اور سوشل میڈیا پر نئی نئی ڈائٹ ٹرینڈز گردش کرنے لگتی ہیں۔ مگر تحقیق بتاتی ہے کہ فوری نتائج دینے والے بیشتر منصوبے نہ تو دیرپا ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی لوگ انہیں مستقل اپنانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق صرف وزن پر توجہ مرکوز کرنے سے وہ مثبت تبدیلیاں نظر انداز ہوجاتی ہیں جو دل کی صحت، پٹھوں کی مضبوطی، ذہنی کارکردگی اور موڈ کو بہتر بناتی ہیں۔ بعض عادات وزن کم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں اور بعض نہیں، لیکن دونوں صورتوں میں مجموعی صحت کو واضح فائدہ پہنچتا ہے۔

ذیل میں ایسے پانچ سائنسی بنیادوں پر ثابت طریقے بیان کیے جارہے ہیں جو 2026 میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے میں مدد دے سکتے ہیں، اور ان کا وزن گھٹانے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

سبزی اور پھلوں کو اپنی غذا میں زیادہ شامل کریں

زیادہ سبزیاں اور پھل کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو لازماً سبزی خور بننا پڑے۔ اگر آپ گوشت کھاتے ہیں تو بھی اپنی پلیٹ میں پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کی مقدار اور اقسام بڑھائی جا سکتی ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پودوں پر مشتمل غذائیں دل کے امراض، کینسر، ذیابیطس اور قبل از وقت موت کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔ لاکھوں افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کا روزانہ استعمال بڑھانے سے قلبی امراض اور دیگر مہلک بیماریوں کے خدشات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

غذا میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، گری دار میوے، بیج، جڑی بوٹیاں اور مصالحے شامل کرنا صحت بہتر بنانے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

زیادہ حرکت کریں

اگر ورزش کو دوا کی شکل دی جا سکتی تو یہ ہر فرد کے لیے تجویز کی جاتی۔ ماہرین کے مطابق ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش یا روزانہ تقریباً 20 منٹ جسمانی سرگرمی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے، جبکہ ہفتے میں دو دن پٹھوں کو مضبوط بنانے والی مشقیں بھی ضروری ہیں۔

ورزش صرف وزن کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ خون میں کولیسٹرول کی بہتری، شوگر کنٹرول، دل کی صحت، بہتر نیند اور ڈپریشن کی علامات میں کمی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، چاہے وزن میں کمی نہ بھی ہو۔

اہم بات یہ ہے کہ ایسی سرگرمی اختیار کی جائے جس سے لطف آئے، کیونکہ مستقل مزاجی ہی اصل فائدہ دیتی ہے۔ روزمرہ معمولات میں سیڑھیاں چڑھنا، پیدل چلنا یا سائیکل استعمال کرنا بھی اتنا ہی مؤثر ہو سکتا ہے جتنا جم جانا۔

ذہنی دباؤ کو سنجیدگی سے کم کرنے کی کوشش کریں

اگرچہ ذہنی دباؤ کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، مگر اس کے اثرات کو کم کرنا صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ طویل المدتی دباؤ مدافعتی نظام کو کمزور کرتا، بلڈ پریشر بڑھاتا اور نیند کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دباؤ کی حالت میں لوگوں کی خوراک کی عادات بھی بدل جاتی ہیں، اور زیادہ تر افراد میٹھی یا چکنائی والی اشیا کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جبکہ پھل اور سبزیاں کم کھاتے ہیں۔ اپنے دباؤ کی وجوہات کو پہچان کر انہیں بہتر انداز میں سنبھالنا صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

معیاری نیند کو ترجیح دیجئے

اچھی نیند مجموعی صحت کی بنیاد ہے۔ نیند کی کمی کا تعلق ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، ڈپریشن اور یادداشت کے مسائل سے جوڑا گیا ہے۔ بالغ افراد کے لیے عموماً سات سے نو گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔

نیند کی کمی بھوک بڑھا دیتی ہے اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ نیند کی کمی ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ ہر کسی کے حالات مختلف ہوتے ہیں، مگر نیند بہتر بنانے کی عملی کوششیں طویل مدت میں فائدہ دے سکتی ہیں۔

نشہ آور اشیا کے استعمال سے گریز

کسی بھی قسم کی نشہ آور شے کا استعمال صحت کےلیے قاتل ہے۔ ان اشیا کا زیادہ استعمال کینسر، دل اور جگر کی بیماریوں کے خطرات بڑھاتا ہے اور قلیل مدت میں بھی نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض افراد نشے کو ذاتی انتخاب سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نشے کی کوئی سی بھی قسم کسی بھی مقدار میں محفوظ نہیں۔

الکحل کم کرنا صحت بہتر بنانے کا ایک ثابت شدہ طریقہ ہے، خاص طور پر نیند، بھوک اور مجموعی توانائی کے حوالے سے۔

نئے سال کی اکثر قراردادیں وزن کے گرد گھومتی ہیں، لیکن اصل اور دیرپا صحت بہت سی چھوٹی مگر مستقل عادات سے بنتی ہے۔ 2026 میں اگر توجہ ترازو کے بجائے مجموعی طرزِ زندگی پر دی جائے تو سال بھر صحت میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق صحت کے کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے