اپنے بیان میں علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ عالمی استکباری قوتوں کیجانب سے رہبر معظم کیخلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کو پاکستان کی زرد صحافت آگے بڑھانے سے اجتناب کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع جیکب آباد کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس جامعہ المصطفیٰ خاتم النبیین جیکب آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی، ممبر صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی مولانا منور حسین ساجدی اور صوبائی صدر عزاداری ونگ محترم سید غلام شبیر نقوی نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر نظیر حسین جعفری، ظہیر عباس جعفری، عزاداری ونگ ضلعی صدر سید محمد علی اصغر شاہ، سید بشیر حسین شاہ، علماء ونگ کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی، جنرل سیکرٹری مولانا ارشاد علی انقلابی، ایمپلائز ونگ کے ضلع صدر ندیم حسین ڈومکی اور یوتھ ونگ کے تحصیل جنرل سیکرٹری حامد علی حسینی بھی شریک ہوئے۔
 
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی انقلابی جدوجہد کے باعث عوامی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اس وقت وطن عزیز پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی، ملکی استحکام و ترقی اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے عظیم مذہبی پیشوا ہیں، ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ رہبر معظم کی پوری زندگی ظلم اور ظالموں کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ سے عبارت ہے، وہ موت سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی استکباری قوتوں بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رہبرِ معظم کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کو پاکستان کی زرد صحافت آگے بڑھانے سے اجتناب کرے۔
 
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ شیطان بزرگ امریکہ کی جانب سے وینیزویلا کے صدر کو اغوا کرنا ایک سنگین عالمی جرم ہے، اور اس جرم کے مرتکب مجرم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اس پر فرد جرم عائد کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عشرۂ تکریم شہداء کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کرکے ان عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا، جنہوں نے دین اسلام کی سربلندی اور حرم آل محمد (ص) کے دفاع کے لیے اپنا لہو نچھاور کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر عزاداری ونگ سید غلام شبیر نقوی نے کہا کہ تمام ونگز کو باہمی روابط، تعاون اور مشترکہ جدوجہد پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مؤثر کوآرڈینیشن کے ذریعے تنظیم اور ملت کے حق میں بہتر اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
 
 
انہوں نے کہا کہ یہ کوآرڈینیشن پورے ملت کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہآٹھ جنوری کو جیکب آباد میں عشرۂ تکریم شہداء کی مناسبت سے خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں مدھر سیٹ اپ اور تمام ونگز بھرپور شرکت کریں گے۔ اس موقع پر اتفاق رائے سے عزاداری ونگ کے سیکرٹری عزاداری کونسل سید بشیر حسین نقوی کو ضلع کوآرڈینیشن کمیٹی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اجتماعی پروگرامز میں باہمی اشتراک، تعاون اور بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ونگز مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ تمام ونگز اپنے اجلاس اور دعائیہ پروگرامز ضلعی آفس میں منعقد کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ انہوں نے ونگ کے

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی