بھارت میں عدالتوں کو بم دھماکوں سے اُڑانے کی دھمکی؛ علاقے میں خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بھارتی ریاست گجرات کی عدالتوں کو بم دھماکوں سے اُڑانے کی دھمکیوں پر افسران کی دوڑیں لگ گئیں اور سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالتی عمارتوں کو خالی کرالیا۔
سیکیورٹی فورسز نے ججوں، وکلا، عدالتی عملے اور سائلین کو بھی حفاظتی اقدامات کے تحت عمارتوں سے باہر نکال دیا اور مکمل تلاشی لی گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ 5 اور 6 جنوری کے دوران گجرات ہائی کورٹ سمیت کم از کم چھ عدالتوں کو ای میل کے ذریعے بم دھماکوں کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان دھمکیوں میں احمد آباد سیشن کورٹ اور متعدد ضلعی عدالتیں بھی شامل ہیں جس کے بعد سکیورٹی ادارے فوری حرکت میں آ گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی عدالت سے کوئی مشتبہ شے یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم خطرے کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔
پولیس نے ای میلز کے ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سائبر کرائم یونٹس کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی عدالتی سرگرمیاں بحال کی جائیں گی، جبکہ عوام کو افواہوں پر کان نہ دھرنے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں حساس سرکاری اداروں کی سکیورٹی اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک