صدر رجب طیب اردوان کی توہین کے الزام میں ترکیہ کے معروف کرد سیاستدان اور سابق قانون ساز رہنما صلاح الدین دمیرتاش کو 17 ماہ اور 15 دن قید کی سزا سنادی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ سزا شمال مغربی ترکیہ کے ادرنا جیل میں قید 52 سالہ دمیرتاش کو مختلف مقدمات کے یکجا ہونے کے بعد دی گئی۔

جن میں صدر اردوان کے بارے میں برسوں پرانی تقاریر بھی شامل تھیں جن پر ان کے وکیل کے مطابق عدالتی کارروائی ابھی مکمل ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ صلاح الدین دمیرتاش ترکی کی کرد سیاست میں ایک نمایاں اور مقبول شخصیت ہیں جنھیں 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اُس وقت انھیں مختلف دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں جیل میں رکھا گیا تھا جن میں سیاسی سرگرمیوں اور کرد قومی حقوق کے لیے ان کی سرگرمیاں شامل تھیں۔

اس سے قبل 2021 میں بھی دمیرتاش کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر، خاص طور پر 2015 میں شامی سرحد کے قریب ترک فضائیہ کے روسی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے پر تبصرہ کرنے کے سبب ساڑھے تین سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر مقدمات میں بھی انہیں جیل کی سزا کا سامنا رہا ہے، جن کی بنیاد پر ترک حکومت کی جانب سے انہیں سیاسی دباؤ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی سزا

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین