امریکا اتنا بہادر تو نہیں ہے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-03-5
میاں منیر احمد
امریکا کوئی بہادر ملک نہیں ہے یہ ہم ویت نام، عراق، افغانستان میں دیکھ چکے ہیں، یہ صرف مقامی ایجنٹوں کی مدد سے کارروائی کرتا ہے، اور پھر جب پائوں جلتے ہیں تو دم دبا کر بھاگ جاتا ہے، یہ اس کے ایجنٹ ہی ہیں جو ہمیں امریکا کی قوت سے ڈراتے رہتے ہیں، چلیے آج تو وینزویلا کی بات ہورہی ہے، ماضی قریب کی بات کر لیتے ہیں، جب امریکی اسامہ بن لادن کو لے گئے تھے، وینزویلا میں ایک رائے پائی جاتی ہے کہ امریکیوں نے ان کے صدر اور ان کی اہلیہ کو وہاں کے محافظوں سے گٹھ جوڑ کرکے اغواء کیا اور نیویارک لے گئے، جب اسامہ بن لادن کے لیے آپریشن ہوا تو پھر ہم بات کر لیتے ہیں اس وقت کے حکمرانوں سے کہ آئیے بتائیے کہ یہ آپریشن کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ تو ہمیں اس وقت کے صدر جناب زرداری، اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہی بتائیں یا بہتر بتا سکتے ہیں کہ وینزویلا کے عوام کی رائے درست ہے یا نہیں۔ وینزویلا کی رائے عامہ کا ایک متحرک گروپ یہ کہتا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے اغواء کی کارروائی میں وہاں کے جرنیل ملوث ہیں، وہاں کے عوام کی اس رائے کے معتبر ہونے یا نہ ہونے پر ضرور غور ہونا چاہیے اور اس پر ہمیں کسی تجربہ کار دانش مند تجزیہ کار کی ضرورت ہے۔
محافظ کا کام کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ ہر قیمت پر اس کو اپنے فرائض انجام دینے ہیں اور اس کی حفاظت کرنی ہے، جس کے وہ محافظ بنائے گئے ہیں، جناب صدر زرداری، جناب یوسف رضا گیلانی اور جناب جنرل کیانی، میدان میں آئیں کچھ تو اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ وینزویلا میں کیا ہوا ہوگا؟ یہی ہوا کہ چند روز قبل امریکا نے اپنی جارحانہ اور غاصبانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر حملہ کیا اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک کامیاب کارروائی قرار دیا، بالکل ایسے ہی صدر بارک اوبامہ بھی اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے آپریشن پر خوش اور مسرور ہوئے تھے، جس کے بدلے میں انہیں دوسری ٹرم بھی مل گئی تھی، اب ٹرمپ بھی بہت خوش اور شاد ہیں، لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ وینزویلا کے عوام کی یہ رائے کس حد تک درست ہے کہ اس کارروائی میں وہاں کے جرنیلوں نے امریکیوں کا ساتھ دیا، اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے، کہ ایسا ہوا یا نہیں ہوا؟ اگر یہ رائے درست ہے تو پھر وہاں کے محافظوں کو کیا سزا ملے گی؟ کون سزا دے گا؟ وینزویلا کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔
ہمارا بھی ایک آئین ہے مگر ہمارا آئین تو بے چارہ ایوب خان کے ہاتھوں بھی پامال ہوا، پھر ضیاء الحق نے اسے معطل کیے رکھا، اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی سوچا وہ کیوں پیچھے رہیں، لہٰذا وہ بھی آئے اور آئین معطل کرکے ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے، اور انہیں مشورہ دینے والوں میں شریف الدین پیرزادہ پیش پیش تھے، حافظ حسین احمد انہیں جدہ کا جادو گر کہتے تھے، ہمارا تو اتنا کہنا ہے اور اس انتظار میں ہیں کہ اگر وقعی وینزویلا کے جرنیل ملوث نکلے تو انہیں کیا سزا ملے گی؟ امریکی صدر نے فاکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ وینزویلا کی قیادت کے لیے حزبِ اختلاف کی رہنما ماریا کورینا مچادو کے نام پر غور کرنا ہو گا۔ اصل میں تو کہانی بھی انہی سے شروع ہوتی ہے کہ جب انہیں امریکا مدعو کیا گیا استقبالیہ دیا گیا اور پھر آپریشن کیا گیا، ہوسکتا ہے کہ مادورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا پڑے، مگر وہ لوگ جو ان کے محافظ تھے وہ انہیں بچانے میں کیوں ناکام رہے؟ دوسری جانب امریکی صدر ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک لوگوں کے خلاف اگر کوئی کارروائی کی گئی تو امریکا مداخلت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ وینزویلا وینزویلا کے اس وقت کے وہاں کے اور اس
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔