ہائیکورٹس ججز کی کارکردگی جائزے کیلیے مجوزہ قواعد پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
جوڈیشل کمیشن کی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 175A (20) کے تحت ہائی کورٹس کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کے مؤثر معیارات طے کرنے کے لیے مجوزہ قواعد پر اتفاق کر لیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہوا جس میں مجوزہ قواعد پر غور کیا گیا۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں اٹارنی جنرل منصور اعوان، سینیٹر علی ظفر اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون شامل تھے۔
اجلاس 2گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق اراکین کے درمیان ہائی کورٹس کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کے جائزے کے لیے مجوزہ قواعد پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے تاہم کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ اگرچہ بعض نکات پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن منظوری کے لیے ایک اور اجلاس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ کمیٹی جو جے سی پی کے عدالتی اراکین پر مشتمل ہو گی، ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
ججوں کے فیصلوں کے معیار اور تعداد کی بنیاد پر نمبر دیے جائیں گے۔ اسی طرح وقت کی پابندی، کارکردگی، کیس مینجمنٹ پر بھی نمبر دیے جائیں گے۔
مزید پڑھیںسپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل
یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ججوں کے کنڈکٹ کی بنیاد پر منفی نمبر بھی دیے جائیں۔ ہر ہائی کورٹ کی تشخیصی کمیٹی ججوں کی کارکردگی سے متعلق اپنی رپورٹ حتمی فیصلے کے لیے جے سی پی کو پیش کرے گی تاہم یہ سفارش کی گئی ہے کہ مس کنڈکٹ سے متعلق شکایات کو کمیٹیاں زیر غور نہیں لائیں گی۔
آئین کے تحت اگر جے سی پی کی اکثریت یہ قرار دے کہ کوئی جج نااہل ہے تو اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا تاکہ اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ ججوں کی کارکردگی کے جائزے کے دوران انہیں نمبر دیے جائیں گے جن کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
ہائی کورٹس کے 40 ایڈیشنل ججوں کی مستقلی کے لیے بھی کمیشن کا اجلاس ہو رہا ہے۔ ان ججوں کو 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد مختلف ہائیکورٹس میں تعینات کیا گیا تھا۔
اطلاعات ہیں کہ کمیشن کے عدالتی اراکین کو بعض ججوں کی مستقلی پر تحفظات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مجوزہ قواعد پر ہائی کورٹس کے کی کارکردگی دیے جائیں پر اتفاق ججوں کی کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔