ریاست کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈا معاشرتی انتشار، تشدد کو جنم دیتا ہے: سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈا معاشرتی انتشار کو جنم دیتا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ تشدد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا معاشرتی انتشار اور تشدد کو جنم دیتا ہے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانا اور حقائق سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاہم سینٹر آف ایکسیلینس تحقیق، آگاہی اور انسدادِ تشدد کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے تدارک کے لیے ادارہ جاتی تعاون اور جدید حکمتِ عملی ناگزیر ہے، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت بیانیے کو فروغ دیا جائے گا جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے نوجوانوں کی شمولیت اور شعور بیداری حکومت کی ترجیح ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ پورے بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام ختم ہو گیا، اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری واضح اور عوام کے تحفظ کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔