بات 5 بڑوں تک آ گئی تو مذاکرات کو ’’نہ‘‘ ہی سمجھیں: گوہر، آفر قبول کریں: رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے۔ پارٹی کے بانی سے ملاقات کے لیے جانے کے موقع پر داہگل ناکہ اڈیالا روڈ پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ نہ پانچ بڑے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہوں گے؟۔ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور ملاقات کے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے بانی سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی، حالات معمول پر لانے کی بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے۔ ہم نے جتنی کوشش کی حالات ٹھیک ہوں دوسری طرف سے اتنی ہی کوشش حالات خراب کرنے کے لیے کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران اسماعیل کا انہیں بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ہم اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی بات پر پبلک میں کمنٹ نہیں کرتا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اجازت نہ دی جائے تو یہ بھیک ہی ہے۔ گزشتہ سال فروری سے اب تک لیڈر شپ کی ملاقات نہیں ہوئی۔ احتجاج ہمارا حق ہے اور پارٹی کا لائحہ عمل موجود ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے لیکن پانچ بڑوں کی بات کرنے کی کوئی منطق نہیں۔ پیپلز پارٹی سے توقع ہے کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تب تک عہدے پر ہوں جب تک بانی کا اعتماد حاصل ہے۔ دریں اثناء علیمہ خان نے گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ہم ملاقات کے لیے آتے ہیں لیکن ملاقات نہیں کرائی جاتی، میڈیا میں بانی کا نام تک نہیں لیا جاتا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کی خبریں چلتی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات دن تھا۔ اڈیالہ جیل جانے والے راستے 5 مقامات پر ناکے لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ اسی دوران فیکٹری ناکے پر پی ٹی آئی کارکنان نے قرآن خوانی کی۔ راولپنڈی پولیس نے دھرنے کی جگہ پر پانی کا ٹینکر لاکر پانی چھوڑ دیا جس پر دھرنے کی جگہ پر پانی پھیل گیا مجبوراً دھرنے کے شرکاء کو جگہ تبدیل کرنا پڑی اور پولیس نے بھی وہاں سے ٹینکر ہٹالیا۔ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔ بعدازاں اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر علیمہ خان کا دھرنا جاری رہا، جہاں ان کی دیگر دو بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی موجود تھیں۔ اس دوران عمران خان کی بقیہ دو بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی فیکٹری ناکے پر پہنچ گئیں۔ بعدازاں اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ بانی کی تینوں بہنوں اور کارکنوں نے فیکٹری ناکے پر دھرنا دیا جس میں سلمان اکرم راجہ، عون عباس بپی، شاندانہ گلزار، نعیم پنجوتھا، مینا خان آفریدی اور شوکت بسرا موجود تھے۔ اسلام آباد سے آئی این پی کے مطابق وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، اپوزیشن 8 فروری کو پہیہ جام کرکے دیکھ لے اس کے بعد دوبارہ بات کر لیں گے۔ اگر ہائیکورٹ حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو یہ کیوں عدالت نہیں جاتے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تو کہا گیا ان کے پاس اختیار ہی نہیں، وزیراعظم نے اسٹیبشلمنٹ اور اپنے لیڈر نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفرکی، آپ قبول کریں۔ کہتے ہیں پہلے ملاقات کرائیں، پھر بانی پی ٹی آئی کو منائیں گے، ہمیں اندازہ ہے بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے، بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی کو ریاست سے ٹکرا کی پالیسی سے نقصان ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی ا ئی فیکٹری ناکے پر بانی پی ٹی آئی مذاکرات کی نے کہا کہ انہوں نے نہیں کر
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔