پنجاب میں پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی قرار، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پنجاب کے ضلع وہاڑی میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ مالکان کو اپنے جانوروں کی مکمل ذمہ داری کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ضلع راولپنڈی میں 5 ہزار سے زائد آوارہ کتوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی کمشنر وہاڑی خالد جاوید گورایا کی جانب سے یہ احکامات ضلع میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد جاری کیے گئے۔ حالیہ عرصے میں بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک افسوسناک واقعے میں ایک معمر خاتون جان کی بازی ہار گئیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق میلسی تحصیل میں آوارہ کتوں کے حملے کے نتیجے میں نذیراں بی بی نامی بزرگ خاتون جاں بحق ہوئیں جبکہ ایک کمسن لڑکا زوہیب شدید زخمی ہوا۔
نئے احکامات کے تحت تمام پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی اور ان کے مالکان کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مالکان اس بات کے بھی ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے کتوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:آوارہ کتوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی پالتو کتے کے کاٹنے سے کوئی شہری متاثر ہوا تو متعلقہ مالک کے خلاف پولیس کی جانب سے فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔
دوسری جانب میلسی تحصیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 3 روزہ مہم کے دوران 100 سے زائد آوارہ کتوں کو تلف کیا گیا۔ یہ کارروائی ضلعی کونسل، لوکل گورنمنٹ اور ستھرا پنجاب کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔