امریکی شہری کے گھر میں گھسا ہرن 2 دن تک تہہ خانے میں پھنسا رہا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکی ریاست وسکونسن میں مالک کی غیر موجودگی میں ایک ہرن گھر میں گھس آیا جو 2 دن تک تہہ خانے میں پھنسا رہا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ریسکیو حکام کو کال کرکے اطلاع دی گئی کہ ایک ہرن بظاہر پڑوسی کے گھر کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوا اور تہہ خانے میں پھنس گیا، اس کے بعد ریسکیو ٹیم نے آپریشن کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق اس وقت گھر کے رہائشی شہر سے باہر گئے ہوئے تھے، ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر ہرن کو جال لگا کر پکڑا اور واپس قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا، ہرن بظاہر شدید زخمی نہیں تھا، تاہم اس نے گھر کے تہہ خانے میں خاصی افراتفری مچا دی تھی۔ اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ چند ہفتے قبل مشیگن کے شہر واکر میں بھی پیش آیا تھا جہاں پولیس کو ایک گھر کے اندر سے ہرن نکالنے کیلئے بلایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تہہ خانے میں
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔