نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھانے کی تاریخی اہمیت بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اپنے حلف کے ایک ہفتے بعد ایک ٹوئٹ کے ذریعے انکشاف کیا کہ جس قرآنِ مجید پر انہوں نے حلف اٹھایا، اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نسخہ عام قاری کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اب یہ نیویارک کے تمام شہریوں کی مشترکہ میراث کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک کی تاریخ میں نیا باب: ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کر میئر بن گئے
اپنی ٹوئٹ میں میئر ممدانی نے لکھا کہ وہ گزشتہ ہفتے آدھی رات کو اولڈ سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھانے کے دوران آرتورو شومبرگ کے اٹھارویں صدی کے قرآن پر ہاتھ رکھ کر ذمہ داریاں سنبھالنے کے اعزاز حاصل ہوا۔
When I swore in at midnight at the old City Hall subway station last week, I had the honor of doing so on Arturo Schomburg’s 18th-century Qur'an.
This manuscript was copied in Ottoman Syria, and is written in black ink with red highlighting the text's divisions – no ornate… pic.twitter.com/7wHu787LSo
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 6, 2026
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نسخہ خلافت عثمانی کے عہد میں ملک شام میں نقل کیا گیا تھا، سادہ سیاہ سیاہی میں تحریر اور متن کی تقسیم کے لیے سرخ رنگ استعمال کیا گیا تھا، اور اس میں کوئی آرائشی نقوش نہیں تھے، کیونکہ یہ عام لوگوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
میئر ممدانی نے کہا کہ یہ تاریخی نسخہ اب شہر کی آئندہ تاریخ اور نیویارک کے تمام شہریوں کی مشترکہ میراث کا حصہ ہے اور عوام کو نیویارک پبلک لائبریری کے مرکزی شاخ میں اس نمائش کو دیکھنے کی دعوت بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآن کے 3 نسخوں پر حلف کیوں لیا؟
یاد رہے کہ نیویارک کے 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی آدھی رات کو سٹی ہال کے نیچے واقع پرانے سب وے اسٹیشن میں میئر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد رہنما ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے قرآنِ مجید کے دو نسخے استعمال کیے: ایک ان کے دادا کا ذاتی نسخہ اور دوسرا ایک صدیوں پرانا تاریخی نسخہ، جو شومبرگ سینٹر میں محفوظ ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ نیویارک کے کسی میئر نے قرآن پر حلف اٹھایا، جب کہ ماضی میں زیادہ تر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے آئے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف مذہبی تنوع کی عکاسی کی بلکہ شہر کے مسلم شہریوں کی طویل اور متحرک موجودگی کو بھی اجاگر کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلافت عثمانیہ ظہران ممدانی قرآن پر حلف ملک شام ممدانی نیویارک میئر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلافت عثمانیہ قرا ن پر حلف ملک شام نیویارک میئر
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔